Share this link via
Personality Websites!
دلجوئی فرماتے تھے۔ چنانچہ حضرت ابوعمران الجونی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے مروی ہے : حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کوڑھ کےمریضوں اوریتیموں کو اچھا کھانا کھلاتے جب کہ خود جَو کھاتے تھے۔ (حلیۃ الاولیاء ، طبقۃ اھل المدینۃ ، ابو عمران الجونی ، ۲ / ۳۵۵ ، حدیث ۲۵۴۷)
مروی ہے کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام صبح کے وقت لوگوں کے حالات جاننے کے لئے ان کے چہروں میں غور کرتے ، یہاں تک کہ مسکینوں کے پاس آ کر بیٹھ جاتے اور(ان کی دلجوئی کرتے ہوئے ) ارشاد فرماتے : مسکین(یعنی عاجزی والا بندہ) ، مسکینوں کے ساتھ بیٹھ گیا ۔ (الزواجر عن اقتراف الکبائر ، الباب الاول فی الکبائر الباطنیۃ وما یتبعھا ، الکبیرۃ الرابعۃ : الکبر ولعجب والخیلاء ، خاتمۃ ، ۱ / ۱۶۳)
اللہتعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو بے مثل نعمتوں سے نوازا تھا ، اس کے باوجود آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے خوف ِخداکا عالم قابلِ دید ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سےروایت ہے ، حضور اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کوجو کچھ عطا کیا ، (یعنی علم ، نبوت ، حکمت اور بادشاہت)اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ڈرسے کبھی آسمان کی طرف اپنی نگاہ نہ اٹھائی۔ (تاریخ ابن عساکر ، ذکر من اسمه سلیمان ، سلیمان بن داود…الخ ، ۲۲ / ۲۷۴ ، حدیث : ۴۹۳۸)
آپ عَلَیْہِ السَّلَام بہت پُر مغز اور حکمت آمیز گفتگو فرماتے تھے ، آئیے! آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے 3 فرامین سنتے ہیں :
(1) ہم نے زندگی کی سختی و نرمی کو جانچا تو سمجھ لیا کہ تھوڑی زندگی ہی کافی ہے۔ ( الزھد لاحمد ، زھد سلیمان علیه السلام ، ص۷۷ ، حدیث : ۲۱۵)
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami