Share this link via
Personality Websites!
چنانچہ ایک مرتبہ آپ کی ملاقات حضرت حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے ہوئی تو آپ نے کہا : مجھے وہ جگہ دکھائیں جہاں رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بوسہ دیا تھا ، حضرت حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے کپڑا ہٹایا تو آپ نے اُسی جگہ بوسہ دیا۔ (مسند احمد ، 3 / 63 ، حدیث : 7466)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارےاسلامی بھائیو! حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کا عِلمی ذوق تھا کہ سب کچھ چھوڑ کر سرورِ کونین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے قدمَینِ شریفَین میں پڑے رہتے تھے۔ فاقوں پر فاقے سہتے اور علم حاصل کرتے تھے اور آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ہی کو يہ اعزاز حاصل ہے کہ سب سے زیادہ احادیث ِمبارکہ آپ سے مَروی ہیں۔ چنانچہ
آپ نے ایک دن حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے شکایت کی کہ یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں آپ کی حدیثوں کو بھول جاتاہوں تو حضور نے حکم دیا کہ تم اپنی چادر کو زمین پر پھیلادو چنانچہ انہوں نے اپنی چادر پھیلادی پھر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کچھ حدیثیں بیان فرمائیں اور ان سے ارشاد فرمایا کہ اس چادر کو سمیٹ کر اپنے سینے سے لگا لو ۔ اس کے بعد حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کا حافظہ اتنا قوی ہوگیا کہ جو کچھ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے سنا اس کو عمر یاد رکھا اور کبھی نہ بھولے۔ (اکمال ، قسطلانی ، ۱ / ۱۲ ۲۔ عمدۃ القاری ، ۱ / ۱۹۴)
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami