Share this link via
Personality Websites!
حَیا آئی آپ نے گھر میں ایک کمرہ اپنے لیے خاص کرلیا اور اس میں پانچ سال تک عبادت کرتے رہے۔ ایک دن جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کی والدۂ محترمہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کے پاس آئیں ، دیکھا کہ ان کا بیٹا عبادت میں مصروف ہے اوراس پر سعادت کے آثار نمایاں ہیں ، ماں کو یقین ہوگیا کہ اب میرا بیٹا ایسا ہوچکا ہے کہ جسے میں اپنے رب کی بارگاہ میں پیش کرسکتی ہوں تونیک والدہ نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا : “ اے میرے بیٹے ! اب میں تجھے اپنے ربِ کریم کی راہ میں وقف کرتی ہوں۔ “ والدہ کی اجازت ملنا تھی کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ راہِ خدا میں سفر کرنا شروع کردیئے ، دس سال سفر میں رہے اور عبادت سے لذّت حاصِل کرتے رہے۔ ایک دن آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کو اپنی والدۂ محترمہ کی زیارت کا شوق ہوا تو گھر کی طرف چل پڑے۔ رات کے وقت جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ گھر پہنچے تو دروازہ کھٹکھٹایاتو پردے کے پیچھے سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کی والدۂ محترمہ کی آواز آتی ہے : “ اے سفیان! جو اللہ پاک کے نام پر کوئی چیز وقف کردیتا ہے وہ واپس نہیں لیتا۔ میں نے تجھے اللہ پاک کے نام پر پیش کردیا ہے ، اب میں تجھے صرف اسی کے سامنے دیکھنا چاہتی ہوں۔ “ ([1])
جان و دل یارب ہو قربانِ حبیبِ کبریا اور ہاتھوں میں ہودامانِ حبیبِ کبریا
ہم سیہ کاروں کی بخشش کی کوئی صورت نہیں جُز ترے اے چَشمِ گِریانِ حبیبِ کبریا([2])
اشعار کی وضاحت : اے ہمارے ربِّ کریم ہمارے جان و دل تیرے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami