Share this link via
Personality Websites!
ہے اللہ پاک مجھ پر رحم فرما دے کیونکہ اس کی بارگاہ میں رشتہ داری کاٹنے کے علاوہ میرا کوئی گناہ نہیں ہے۔
اس نیک شخص نے پوچھا میری اَمَانَت کہاں ہے؟ خراسانی نےکہا میرے مکان کےفلاں کونے میں دَفْن ہے ، جا کر وہاں سےنکال لوچنانچہ اس نیک شخص نے اس مکان میں بتائی ہوئی جگہ کھود کراپنی امانت نکال لی اور خراسانی کی بہن کی تلاش میں اس کے آبائی علاقے کی طرف نکل پڑا اور معلومات حاصل کرکے اس مَعْذُور بہن تک پہنچ گیا اور ساراماجرا سنا دیا۔ یہ واقعہ سن کربہن رونے لگی ، نیک شخص نے اسے بھائی کے لیے دُعا کرنے کا کہاتو وہ اپنی محتاجی کی شِکایَت کرنے لگی ، نیک شخص نےاس کی ضروریات پوری کیں ، بہن خوش ہوگئی ، اب یہ شخص واپس مکہ مکرمہ میں لوٹ آیاتو یہ دیکھنے کے لیے کہ اس شخص کو عذاب سے رہائی ملی یا نہیں۔ ایک روز زَم زَم کنویں میں آوازدی تومرحوم خراسانی نے جواب دیا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ بَرْہُوت کنویں سےنجات مل گئی ہے اور اب میں زم زم کنویں میں امن و چین سے ہوں۔ ([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!سنا آپ نے! بہن کے ساتھ اچھا سُلُوک نہ کرنے کی وجہ سے اس خراسانی شخص کی اتنی عبادت کے باوجود اس کی ایک عمل پر پکڑ ہوگئی اور وہ عبادت بھی وہ جو مکہ میں کی جہاں کی ایک نیکی ایک لاکھ نیکی کے برابر ہے۔ اور
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami