Share this link via
Personality Websites!
فرمایا حالانکہ ان سے کوئی کوتاہی سرزد نہ ہوئی تھی۔ اس دعا میں حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی دِلجوئی اور قوم کے سامنے ان کے اِکرام کا اظہار بھی مقصودتھا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام سے ان کے بھائیوں نے جو رویہ اختیار کیا وہ کس قدر تکلیف دہ تھا مگر آپ نے اِنْتِقَام لینے کی بجائے معاف کرنے سے کام لیا چنانچہ پارہ 13 ، سُورۂ یُوسُف کی آیت نمبر92میں ارشاد ہوتاہے :
قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَؕ-یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ٘-وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ(۹۲) (پ : ۱۳ ، یوسف : ۹۲)
ترجمۂ کنز العرفان : فرمایاآج تم پر کوئی ملامت نہیں اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔
حدیثِ مبارکہ میں ہے : جس كى تىن بىٹىاں ىا تىن بہنىں ہوں ىا دو بىٹىاں ىا دو بہنىں اور اس نے ان كے ساتھ اچھا برتاؤ كىااور ان كے بارے مىں اللہپاک سے ڈرتا رہا تو اسےجنّت ملے گى۔ ([1])بلکہ ایک مرتبہ تو چاروں انگلیاں جوڑ کر جنّت میں رفاقت کی خوشخبری سنائی : ایسا شخص جنت میں میرے ساتھ یوں ہو گا۔ ([2])
حضرت جابر کا اپنی بہنوں کے ساتھ سُلُوک
اے عاشقانِ رسول! آپ نے سنا کہ!بہنوں سے اچھا برتاؤ کرنے کے سَبَب جنت ہی نہیں ملے گی بلکہ جنت میں پیارے آقا ، مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami