Book Name:Hazrat Ibraheem Aur Namrood

ہے ، وہ دِل بھی اللہ پاک نے بنایا ، تجھے زِندگی اللہ پاک نے بخشی ، تجھے بولنے ، سننے ، سمجھنے ، سوچنے ، چلنے پھرنے کی طاقت بھی اللہ پاک نے بخشی اور وہ اللہ پاک ہی ہے کہ تُو چاہے جتنا مرضی زَوْر لگائے ، جتنی بھی ترقی کر لے ، عنقریب وہ تجھے موت کے گھاٹ اُتارے گا اور تُو فَنَا ہو جائے گا ، اے نادان اپنے اندر ہی غور کر! تیرا ہونا ، تیرا نہ ہونا ، سب کچھ اللہ پاک کے وُجُود پر ، اس کے ایک ہونے پر واضِح اور صاف دلیل ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے :

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْؕ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ(۲۱) (پارہ26 ، سورۃالذّٰریٰت : 21)         

ترجمہ کنزُ العِرفان : اور خود تمہاری ذاتوں میں میں ، تو کیا تم دیکھتے نہیں۔

یعنی اے کافِرو! تمہاری پیدائش کے مراحل میں ، تمہارے اَعْضَا کی بناوٹ میں ، تمہارے اَعْضا کی ترتیب میں ، تمہارے جسم کے اندرونی نِظام میں ، تمہاری پیدائش کے بعد مرحلہ وار تمہارے حالات بدلنے میں ، تمہاری شکلوں ، صُورتوں اور زبانوں کے اِخْتلاف میں ، تمہاری ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کے مختلف ہونے میں ، تمہارے ظاہِر میں ، تمہارے باطِن میں اللہ پاک کی قُدْرَت کے بےشُمار عجائبات موجود ہیں تَو کیا تُم غور نہیں کرتے؟([1])

اللہ واحد و یکتا ہے                            ایک خدا بس تنہا ہے

کوئی نہ اس کا ہمتا ہے                        ایک ہی سب کی سنتا ہے

لَآاِلٰہَ اِلَّااللہ ، اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ

ہر ہر ذَرَّہ ہر قطرہ                             شاہِد ہے ہر ہر لمحہ

اس کی قدرت و صنعت کا                     یکتائی و وَحْدَت کا

لَآاِلٰہَ اِلَّااللہ ، اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ


 

 



[1]...صراط الجنان ، پارہ : 26 ، سورۂ ذاریات ، زیرِآیت : 21 ، جلد : 9 ، صفحہ : 495۔