Book Name:Qurbani Sunnat Anbiya Hay

تو قرعہ اندازی میں اُونٹوں کا نام نکلا ، قریش بولے : بَس! اے عبد المطلب! آپ کا ربّ 100 اُونٹوں پر راضِی ہے۔ حضرت عبد المطلب رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے فرمایا : مجھے اطمینان نہیں ہوا ، وَاللہ (اللہ کی قسم)! میں 3مرتبہ قرعہ ڈالوں گا۔ چنانچہ 3مرتبہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں بار 100 اُونٹوں کا نام نکلا۔ اب حضرت عبد المطلب رَضِیَ اللہُ عَنْہُ مطمئن ہوئے اور حضرت عبد اللہرَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے فدیے میں 100اُونٹ قُربان کر کے اللہ پاک کا شکر بجا لائے۔ ([1]) 

اس واقعہ کے بعد حضرت عبد اللہرَضِیَ اللہُ عَنْہُ کا لقب “ ذَبِیْح(یعنی بارگاہِ الٰہی میں خود کو قربانی کے لئے پیش کرنے والا) مشہور ہو گیا۔ صحابی اِبْنِ صحابی حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فرماتے ہیں : ایک  اعرابی نے بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہو کر کہا : یَا اِبْنَ الذَّبِیْحَیْن! اے 2ذبیحوں کے بیٹے! رسولِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ سُن کر تبسم فرمایا۔ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے پوچھا گیا : یہ 2 ذَبِیْح کون ہیں؟ فرمایا : ایک حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام اور دوسرے والِدِ مصطفےٰ حضرت عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔  ([2])   

خُدائے پاک کے حامِد ہیں پیارے عبد اللہ  بڑے ہی عابِد و زاہِد ہیں پیارے عبد اللہ

شک ان کے ایماں پہ کرنے سے پہلے یاد رکھو           مرے رسول کے والِد ہیں پیارے عبد اللہ

نبی کے صدقے میں کیا کیا عِنَایتیں نہ ہوئیں ہو چشمِ عَدْل تو شاہِد ہیں پیارے عبد اللہ

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!                                               صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

اے عاشقانِ رسول !معلوم ہوا پہلے جتنی ایماندار اُمَّتَیْں گزری ہیں ، اِن سب کے لئے قربانی مقرر تھی ، حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے بیٹوں نے بھی قربانی کی ، حضرت نوح ، حضرت


 

 



[1]...شرحِ زُرْقانی علی مواہب ، مقصد : اول ، ذکر : حفر زم زم ، جلد : 1 ، صفحہ : 177تا178خلاصۃً۔

[2]...مستدرک ، کتاب : تواریخ ، باب : بیان ِاختلاف ، جلد : 3 ، صفحہ : 424 ، حدیث : 4090۔