Book Name:Molana Naqi Ali Khan ki 3 Karamat

مفتی نقی علی خاں رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کا عشقِ رسول

پیارے اسلامی بھائیو!  والِدِ اعلیٰ حضرت ، حضرت علَّامہ مولانا نقی علی خان رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  کا نہایت اَہَم اور خاص وصف ، یا یُوں کہئے کہ مولانا نقی علی خان رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کے تمام اَعْلیٰ اَوْصاف اور تمام خوبیوں کی اَصْل جو ہے ، وہ ہے : آپ کا عشقِ رسول۔

بلکہ بعض ماہرینِ رضویات (یعنی جو اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی سیرت و کردار ، آپ کی تعلیمات وغیرہ پر ریسرچ کرتے ، اس پر مقالے (یعنی Thesis) لکھتے اور اس بنیاد پر P.H.D کی ڈگری حاصِل کرتے ہیں ، اُن) کا کہنا ہے : *اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ امامِ عشق و محبت ہیں *اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ساری زندگی عشق رسول میں بسر فرمائی *ساری زِندگی آقائے نامدار ، مدنی تاجدار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی نعتیں لکھتے *آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی عزت و ناموس پر پہرا دیتے ہوئے گزاری *اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کے عشقِ رسول کا تو کیا کہنا کہ پاک و ہند میں جو عشقِ رسول کی شمع روشن ہے ، اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ ہی کے دَم سے روشن ہے مگر سُوال یہ ہے کہ سیدی اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کو عشقِ رسول کی یہ بےپناہ دولت نصیب کیسے ہوئی؟ اس پر ریسرچ کی گئی تو ریسرچ کرنے والوں نے کہا : ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ بے شک اعلیٰ حضرت ،  امامِ اہلسنت ، شاہ امام احمد رضا خان رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کو عشق رسول کی یہ بےپناہ دولت اللہ پاک ہی نے عطا فرمائی تھی مگر ظاہِری اسباب کے اعتبار سے دیکھا جائے تو چونکہ اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کے والِد اور آپ کے استاد مولانا نقی علی خان رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ بہت بُلند رُتبہ عاشق رسول تھے ، لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیدی اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کا وہ عشقِ رسول جس نے ایک جہان کو فیض یاب کیا ، یہ عشقِ رسول  کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر