Share this link via
Personality Websites!
کی چکّی ، نُقرَئی کنگن پیش کئے۔ اسی طرح کی دیگر چیزیں کتابوں سےدیکھ کر جو جو مُیَسَّر آیا (مثلاً) چٹائی ، مِٹّی کے برتن اورکھجور کی چھال بھرا چمڑے کا تکیہ وغیرہ جہیز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ ([1])
اسی طرح اپنے بڑے بیٹے ، الحاج مولاناابو اُسیدعُبیدعطاری مَدَنی مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی کے نکاح کی تقریب بَرقی قمقموں سے جگمگاتے شادی ہال کے بجائے ملتان شریف میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے تین روزہ سُنَّتوں بھرے بین الاقوامی اجتماع میں 18اکتوبر2003 کوشبِ اتوار بڑی سادَگی کےساتھ انجام پائی۔ تلاوت کے بعد پُر سوزنعتیں پڑھی گئیں ، خُطبۂ نکاح پڑھ کر اَمیرِاَہلِ سُنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہی نےنکاح پڑھایا۔ جبکہ رُخصتی کی تقریب شَوّالُ الْمُکَرَّم۱۴۲۶ ، بمطابق2005 کی دسویں شب رکھی گئی۔ ([2])
مولانا حاجی عُبَیْد رضا مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالِیکی شادی میں جب لڑکی والوں نے پُر تکلّف جہیز دینا چاہا ، تو شیخِ طریقت ، امیرِ اہلِ سُنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اُنہیں سادَگی اپنانےکی تلقین کی۔ دوسری طرف صاحبزادۂ عطّار مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِیبھی پلنگ وغیرہ کی بجائے چٹائی قبول
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami