Share this link via
Personality Websites!
مغفرت کا ہوں تجھ سے سُوالی پھیرنا اپنے دَر سے نہ خالی
مجھ گنہگار کی التجا ہے یاخُدا تجھ سے میری دُعا ہے
نارِ دوزخ سے مجھ کو اماں دے مغفرت کر کے باغِ جِناں دے
کر دے رَحْمت مری التجا ہے یاخُدا تجھ سے میری دُعا ہے([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ رسول! ہم نے سُنا!آج کی رات اللہ پاک لاکھوں لاکھ بندوں کی مغفرت فرما کر انہیں دوزخ سے آزادی عطا فرما دیتا ہے مگر آہ! کتنا بدنصیب ہے جو آج بھی اپنی مغفرت نہ کروا پائے۔ حدیثِ پاک میں ہے : 6 لوگ ہیں ، جن کی اس رات بھی بخشش نہیں ہوتی : (1) : شراب کا عادی ، (2) : ماں باپ کا نافرمان ، (3) : زِناکا عادی ، (4) : رشتے توڑنے والا ، (5) : تصویر بنانے والا ، (6) : اور چغل خور۔ ([2])
بعض روایات کے مُطَابِق *کاہِن (یعنی نجومی) *جادُو گر *تکبر کے ساتھ پاجامہ یا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والے *مسلمان سے بلا اجازتِ شرعی بغض وکینہ رکھنے (یعنی دِل میں دُشمنی چھپانے) والے بھی اس رات مغفرت کی سَعَادت سے محروم رہتے ہیں۔ ([3])
الامان والحفیظ! اللہ پاک ہم سب کو ان تمام گُنَاہوں سے محفوظ فرمائے اور آج کی رات مغفرت وبخشش کی نعمت عطا فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۔
آئی شَبِ براءَت ، یہ ہے برکتوں کی رات لطف وکرم کی رات ہے ، یہ رحمتوں کی رات
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami