Achi Aur Buri Lalach

Book Name:Achi Aur Buri Lalach

کی خاص رَحمت ہوتووہی اس عادت سے بچ سکتا ہے۔ یہ عادت کس قدر نقصان دِہ ہے اس کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سےلگایا جاسکتا ہے : رسولِ کریم  صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نےارشادفرمایا : ظلم کرنے سے ڈرو کیونکہ ظلم قیامت کا اندھیرا ہے اور نفس کے لالچ سے بچو کیونکہ اس لالچ نےتم سےپہلی اُمتوں  کوہلاک کردیا کہ لالچ نےان کو ناحق قتل کرنےاورحرام کام کرنے پراُبھارا۔ ([1])  

لالچ سے بچنا کس قدر فائدہ مند ہے ، اس کا اندازہ اس روایت سے لگایا جاسکتا ہے : حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بیتُ اللّٰہ شریف کا طواف کرتے ہوئے صِرْف یہی دعامانگ رہےتھے : اےاللّٰہپاک!مجھےمیرےنفس کی حرص سے بچا۔ جب ان سے اس کے بارے میں  سُوال کیا گیاتوانہوں نے فرمایا : جب مجھے میرے نفس کی حرص سے محفوظ رکھاگیاتونہ میں  چوری کروں  گا ، نہ بدکاری کروں  گااورنہ ہی میں  نے اس قسم کاکوئی کام کیاہے ۔ ([2])

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! لوگوں کی حرص کے حوالے سے مختلف حالتیں ہیں ، کوئی مال کا حریص ہے تو کوئی جاگیر و جائیدادکی حرص اپنے اندر لیے ہوئے ہے ، کسی کو گناہوں کی حرص نے اندھا کیا ہوا ہے تو  کوئی حُبِّ جاہ (یعنی شہرت کی خواہش) کی حرص میں مبتلاہے۔ جہاں ان بُرے کاموں کےحریص پائےجاتےہیں وہیں اللہ پاک کے ایسے بندے بھی موجود ہیں جن کے دل نیکیوں کی حرص سے بھرے ہوئے ہیں ، جنہیں اُمّت کی خیرخواہی کی حرص بے قرار رکھتی ہے اور وہ دن رات سُنَّت کی


 

 



[1] مسلم ، کتاب البر والصلۃ والآداب ، باب تحریم الظلم ، ص۱۳۹۴ ، حدیث : ۵۶(۲۵۷۸)

[2] تفسیر طبری ، الحشر ، تحت الآیۃ : ۹ ، ۱۲  /  ۴۲