Book Name:Achi Aur Buri Lalach
خدمت اور اُمّت کی راہ نمائی میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں ، فی زمانہ اگر دیکھا جائے تو اُن پاکیزہ لوگوں میں امیرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادِری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ذاتِ مبارکہ بھی ہے جن کے دل دُنیاوی لالچ سے پاک ہیں ، آپ نہ صرف خود نیکیوں کے حریص ہیں بلکہ دوسروں کو بھی نیکیوں کاحریص بنانے والے ہیں ، آپ میں اُمّت کی خیرخواہی اور نیکیوں کی اتنی حرص ہے کہ آپ کا کوئی کام نیکی اورنبیِّ پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دُکھیاری اُمّت کی خیرخواہی سے خالی نہیں۔ آپ کا بڑی عمروالا ہونا بھی آپ کی نیکیوں کی حرص میں رکاوٹ نہیں بلکہ آپ اس عمر میں بھی مَدَنی چینل پردِین کی خدمت اور کتب و رسائل کی تصنیف میں مصروف رہتے ہیں اور پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے لوگوں کو نیکی کی طرف متوجہ کیے ہوئے ہیں ، آپ کا عطا کردہ 72 نیک اعمال نامی رسالہ آپ کی اس کڑھن کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کا اندازہ اس رسالے کا مطالعہ اور اس پر عمل کرنے والوں کو یقیناً اچھی طرح ہوگا ، چنانچہ نیک عمل نمبر 1 میں اچھی نیتوں کی ، نمبر2 میں پنج وقتہ نمازوں کی ، نمبر 3 میں نمازوں کی دعوت دینے کی ، نمبر 4 میں سورۂ ملک پڑھنے یا سُننےکی ، نمبر 5 میں پانچوں نمازوں کے بعد آیۃ الکرسی ، سورۂ اخلاص اور تسبیحِ فاطمہ پڑھنے کی اسی طرح دیگر نیک اعمال میں مختلف نیکیوں کی ترغیبیں موجود ہیں ، لہٰذا آج ہی اس رسالے کو قریبی مکتبۃ المدینہ کے اسٹال سے ھَدِیَّۃً طلب کیجیے اور اس کے مطابق روزانہ جائزہ لینے کی بھرپور کوشش کیجیے اِنْ شَآءَ اللہ گناہوں کی حرص نکلے گی اور نیکیوں کی حرص نصیب ہوگی۔