Book Name:Iman Ki Salamti
ہے!کل عید ہے! اور سب خوش ہیں ، لیکن میں تو جس دن ا س دنیا سے اپنا ایمان سلامت لے کر گیا ، میرے لئے تو وہی دن عید ہو گا۔ (صراط الجنان ، ۱ / ۲۶۳)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے سُنا کہ اولیائے کرام رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمْ کو اس بات کا ڈر لگا رہتا تھا کہ کہیں ہم سے ہمارا ایمان نہ چھن جائے ، * کثرتِ عبادت کے باوجود اللہ پاک کی ناراضی والے کاموں اور باتوں سے بچا کرتے تھے ، * دوسروں سے بھی ایمان پر خاتمے کی دُعا کا کہا کرتے تھے ، * حفاظتِ ایمان کے لئے آنسو بہایا کرتے تھے ، * کثرتِ حفاظتِ ایمان کے لئے غیر ضروری میل جول سے بچا کرتے تھے۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ ان اللہ والوں کے نقشِ قدم پر چلیں ، اپنی زبان کی حفاظت کریں ، فضول و غیر ضروری میل جول سے بچیں ، نیکیوں کا شوق اپنے دل میں پیدا کریں ، اپنے گناہوں پر آنسو بہائیں اور گناہوں سے سچی توبہ کریں ، اللہ پاک سے دنیا و آخرت میں عافیت و نجات کی دُعا کریں اور اس کے لئے عملی کوششیں بھی جاری رکھیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہئے کہ اپنے گناہوں کو یاد کریں ، ان پرآنسو بہائیں اور اللہ پاک سے توبہ و استغفار کریں۔ بدقسمتی سے آج کل ہم لوگ روتے تو ہیں مگر خطاؤں پر یا خوفِ خدا کی وجہ سے نہیں روتے بلکہ دنیا کے غموں کی وجہ سے روتے ہیں۔ جبکہ ہمارے بُزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہِم کے نزدیک دُنیا