Share this link via
Personality Websites!
وَّ قِیَامًا(۶۴) وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ﳓ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ(۶۵) اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا(۶۶)
سجدے اور قیام کی حالت میں رات گزارتے ہیں اور وہ جو عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب!ہم سے جہنم کا عذاب پھیر دے ، بیشک اس کا عذاب گلے کا پھندا ہے۔ بیشک وہ بہت ہی بُری ٹھہرنے اور قیام کرنے کی جگہ ہے۔
تفسیرِصراطُ الجنان میں ان آیات کے تحت جوکچھ لکھاہے ، آئیے!اس کا خلاصہ سُننےکی سعادت حاصل کرتے ہیں : یہاں کامل ایمان والوں کی تنہائی کی زندگی کے بارے میں بیان کیاجارہا ہے ، چنانچہ اِرشاد فرمایا : کامل ایمان والوں کی خلوت و تنہائی کا حال یہ ہےکہ ان کی رات اللہ پاک کے لئے اپنے چہروں کے بل سجدہ کرتے اور اپنے قدموں پر قیام کرتے ہوئے گزرتی ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارےاسلامی بھائیو!آپ نےسُنا کہ ہمارے نیکیاں چھپانے کا کتنااِہتمام کرتے تھے۔ کاش!اِن نیک بندوں کےصدقےمیں ہم بھی نیک ہوجائیں اور بِلا اجازتِ شرعی اور بغیر ضرورت کے اپنےنفل روزے ، تلاوتِ قرآن ، صدقہ و خیرات ، اوراد و وظائف ، اپنا سید ، حافظ اور عالِمِ دین ہونا بِلااجازتِ شرعی اور بغیر ضرورت کسی کو نہ بتائیں۔ حضور مفتیِ اعظم ہند ، مولانا مصطفےٰرضاخان رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ جواعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کے بڑے شہزادے ہیں ، بڑے پیارے اندازسے توجہ دِلاتے ہوئے فرماتے ہیں : اوّل تو نفسِ ا مّارہ ہمیں نیکی کرنے نہیں دیتا اور اگرکوئی نیکی کرنے کی سعادت مل بھی جائےتو ہمارا بُرا نفس نیکیاں چھپانےنہیں دیتا ، جبکہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami