Share this link via
Personality Websites!
اور ہرچيز کا اُسی سے سُوال کرے۔ (ص۸۴) * رنج ومصيبت سے گھبرا کر اپنے مرنے کی دُعا نہ کرے۔ خيال رہے! دُنیوی نقصان سے بچنے کے لئے موت کی تمناّ ناجائز ہے اور دینی مُضَرَّت (یعنی دینی نقصان)کے خوف سے جائز۔ (ص۸۵ ، ۸۷) * کسی مسلمان پر لعنت نہ کرے اور اسے مَردود وملعون نہ کہے اور جس کافر کا کُفر پر مرنا يقین نہيں اُس پر بھی نام لے کر لعنت نہ کرے۔ یُونہی مچھّراور ہوا اور جَمادات(یعنی بے جان چیزوں مَثَلاً پتّھر ، لوہا وغیرہ) وحَيوانات پر لعنت ممنوع ہے۔ البتّہ بچھّو وغيرہ بعض جانوروں پر حديثِ پاک ميں لعنت آئی ہے۔ (ص۹۰) * کسی مسلمان کو یہ بددُعا نہ دے کہ “ تجھ پر خدا کا غضب نازل ہو اورتُو(بھاڑ اور)آگ يا دوزخ ميں داخِل ہو “ کہ حدیث شريف ميں اس کی مُمانَعَت وارِد ہے۔ (ص۱۰۰) * جو کافِر مرا اُس کے لئے دعائے مغفِرت حرام و کُفر ہے۔ (ص۱۰۱) * یہ دُعا کرنا “ خدایا! سب مسلمانوں کے سب گناہ بخش دے۔ “ جائز نہيں کہ اس ميں اُن احاديثِ مبارَکہ کی تکذيب(یعنی جُھٹلانا)ہوتی ہے جن ميں بعض مسلمان کا دوزخ ميں جانا وارِد ہوا (ص۱۰۶) البتّہ يوں دُعا کرنا “ ساری اُمّتِ محمد کی مغفرت (یعنی بخشش)ہو يا سارے مسلمانوں کی مغفرت ہو “ جائز ہے (ص۱۰۲) بہتر یہ ہے کہ سب مسلمانوں کو دُعا میں شامل کر لے اِس کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ اگر خود اُس نیک بات کا حق دار نہ بھی ہوا تو اچھے مسلمانوں کے طُفیل پا لے گا۔ * حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : مضبوط عقیدے کے ساتھ دُعا مانگے اور قَبولیَّت کا یقین رکھے۔ (احیاء العلوم ، ۴ / ۷۷۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمّد
دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سُنّتوں بھرے اجتماع کے شیڈول کےمطابق “ سفر کے وقْت کی دعا “ یاد کروائی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami