Share this link via
Personality Websites!
تھے۔ جیساکہ
حضرت سیِّدُنا احمد بن یحییرَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ فرماتے ہیں : ایک دن حضرت سیِّدُنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ قندیلوں کے بازار سے نکلے تو ہم آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑے دیکھا کہ ایک شخص کسی عالم کو بیہودہ باتیں کہہ رہا تھا ، حضرت سیِّدُنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : فحش کلامی سننے سے اپنے کانوں کو پاک رکھو جیسے تم اپنی زبانوں کو بُرے کلام سے پاک رکھتے ہو کیونکہ (جان بوجھ کر) سننے والا کہنے والے کے ساتھ شریک ہوتا ہے اور بے وقوف آدمی ہی اپنے برتن( یعنی دماغ) میں سے سب سے بُری بات تمہارے برتنوں(یعنی دماغوں) میں ڈالنے کی حرص (لالچ)کرتا ہے۔ اگر بے و قوف کی بات اسی کی طرف لوٹا دی جائے تو لوٹانے والا نیک بخت ہوتا ہے جس طرح کہ اس کا قائل بدبخت ہوتا ہے ۔ (لباب الاحیا ، ص ۲۹)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!اس حکایت سے معلوم ہوا !اگر کسی مجلس میں فحش اور بیہودہ گفتگو کیجارہی ہواور ہم روكنے کی قدرت بھی رکھتے ہوں تو انہیں روکنا چاہیے ، ورنہ کم از کم دل ميں تو بُرا جانتے ہوئے وہاں سےدور ہوجانا چاہیے ۔ بعض ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں کہ جو خود تو فحش گوئی سے بچتے ہیں لیکن اگر کسی کو فحش گوئی اور بدکلامی کرتا دیکھیں تو اس کی فحش گوئی اور بدکلامی سے مَعَاذَ اللہ بہت محظوظ اور لُطف اندوز ہوتے ہیں اوران کو بد کلامی سے روکنے کے بجاۓ ان کی حوصلہ اَفزائی کرتے ہوۓ اپنی آخرت کی تباہی کا سامان کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں نبیِ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَكافرمانِ عبرت نشان ہے : چار (4) طرح کے جہنمی جو کھولتے پانی اور آگ کے درمیان بھاگتے پھرتے وَیل وثُبُور (ہلاکت) مانگتے ہوں گے۔ ان میں سے ایک وہ شخص کہ اس کے مُنہ سے پِیپ اور خون بہتے ہوں گے۔ جہنَّمی کہیں گے : “ اس بد بخت کو کیا ہوا ہماری تکلیف میں اضافہ کئے دیتا ہے؟ “ کہا جائے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami