Share this link via
Personality Websites!
مسکراہٹ ہی خَتْم ہو گئی!اپنے وِصال سے قبل صِرْف ایک ہی بارمُسکراتی دیکھی گئیں۔ اِس کا واقِعہ کچھ یو ں ہےکہ حضرت سیِّدَتُنا خاتونِ جنّت رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہاکویہ تشویش تھی کہ میں نے عُمر بھر تو غیر مَردوں کی نظروں سے خود کو بچائے رکھا ہے ، اب کہیں بعدِ وفات میری کَفْن پوش لاش ہی پرلوگوں کی نظر نہ پڑ جائے!ایک موقع پرحضرت سیِّدَتُنا اَسماء بنتِ عُمیس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا نے کہا : میں نے حَبشہ میں دیکھا ہے کہ جَنازے پر دَرَخْت کی شاخَیں باندھ کر ایک ڈولی کی سی صُورَت بنا کر اُس پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ پھر اُنہوں نے کَھجور کی شاخیں منگوا کر انہیں جوڑ کر اُس پر کپڑا تان کر سیِّدہ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہاکودِکھایا۔ آپ بَہُت خوش ہوئیں اورلبوں پرمسکراہٹ آگئی۔ بس یِہی ایک مسکراہٹ تھی جو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہِری کے بعد دیکھی گئی۔ ( جذب القلوب ، ص۱۵۹)
سُبْحٰنَ اللہ !چشمِ فلک نے حیا کا ایسا انوکھا نظارہ شاید ہی کہیں اور دیکھا ہوگا ، باوجود یہ کہ وصالِ مُصْطَفٰے کے بعد عمر بھر غمِ مصطفٰے کا غلبہ رہا ، مگراس کے باوجود آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا نےآخری سانس تک حیا کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا کو فقط یہی فکر دامن گیر رہی کہ کہیں مرنے کے بعد میرے کفن پر کسی غیر مرد کی نظر نہ پڑجائے۔
اسی طرح صحابیۂ رسول حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ خلّادرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا کا واقعہ ہے کہ ایک جنگ میں ان کا بیٹا شہید ہو گیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا ان کے بارے میں معلومات حاصِل کرنے کیلئے چہرے پرنِقاب ڈالے باپردہ بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں حاضِر ہو ئیں ، اِس پر کسی نے حیرت سے کہا : اِس وقْت بھی آپ نے مُنہ پر نِقاب ڈال رکھا ہے! کہنے لگیں : میں نے بیٹا ضَرور کھویا ہے ، حیا نہیں کھوئی۔ (اَ بِی دَاود ، ۳ / ۹ ، حدیث : ۲۴۸۸)
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami