Share this link via
Personality Websites!
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍکَمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی لَہٗ
ایک دن ایک شَخْص آیا تو حُضُورِ اَنْور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے اُسے اپنے اور صِدّیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے درمِیان بِٹھا لِیا۔ اِس سے صَحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم کو تَعَجُّب ہوا کہ یہ کون ذِی مَرتبہ ہے !جب وہ چلا گیا تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے فرمایا : یہ جب مُجھ پر دُرُودِ پاک پڑھتا ہے تو یوں پڑھتا ہے ۔ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
(6) دُرُودِ شَفَاعت
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاَنۡزِلۡہُ الۡمَقۡعَدَ الۡمُقَرَّبَ عِنۡدَکَ یَوۡمَ الۡقِیَامَۃِ
رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ عالیشان ہے : جو شخص یوں دُرودِ پاک پڑھے ، اُس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔ ([2])
(1) ایک ہزار د ن کی نیکیاں
جَزَی اللّٰہُ عَنَّا مُحَمَّدًا مَّا ھُوَ اَھْلُہٗ
حضرتِ ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا سے رِوایت ہے ، سرکارِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : اس کو پڑھنے والے کے لئے ستّر فِرِشتے ایک ہزار دن تک نیکیاں لکھتے ہیں۔ ([3])
(2) گویا شبِ قدر حاصل کرلی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami