Ambiya-e-Kiram Ki Naiki Ki Dawat

Book Name:Ambiya-e-Kiram Ki Naiki Ki Dawat

ہے۔چُھٹی والے دن شہرکے مختلف عَلاقوں اوراطراف کے گاؤں،گوٹھوں میں جاکر وہاں کی مساجد کو آباد کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی عاشقانِ رسول کونیکی کی دعوت دےکرعِلمِ دِین سیکھنے، سکھانے کی ترکیب کی جاتی ہے۔٭اَلْحَمْدُ لِلّٰہ یَوْمِ تَعْطِیْل اِعْتِـکاف  اسلامی بھائیوں کو سُنّتیں اور آداب اور  مَدَنی دَرْس وغیرہ کا طریقہ سکھانے کا بہترین ذریعہ ہے٭یَوْمِ تَعْطِیْل اِعْتِـکاف  کی بَرَکت سے مساجِد آبادہوتی ہیں ٭یَوْمِ تَعْطِیْل اِعْتِـکاف کی بَرَکت سے  بہ نیتِ اعتکاف مسجد میں گزرنے والاہر ہر لَمحہ عِبادَت میں شُمار  ہوگا٭یَوْمِ تَعْطِیْل اِعْتِـکاف کی بَرَکت  سےمسجِد سے مَحَبَّت کرنے اور اُس میں اپنا زِیادہ سے زِیادہ وَقْت گُزارنے   کی فضیلت حاصل ہوگی۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اپنا زِیادہ وَقْت مسجد میں گزارنے کی بھی کیا خوب فضیلت ہے ،چُنانچہ

حضرت سَیِّدُنا ابُو سَعِیْد خُدْرِی رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ سے رِوایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ مسجد میں کثرت سے آتاجاتاہے تو اُس کے اِیمان کی گواہی دو کیونکہاللہ کریم(پارہ 10سُوْرَۃُ التَّوْبَۃ کی آیت نمبر 18میں اِرْشاد)فرماتاہے :

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ (پ ۱۰ ،التوبہ :۱۸)

ترجَمۂ کنزُ العرفان:اللہ کی مسجدوں کو وہی آباد کرتے ہیں جوالله اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور نمازقائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔

(ترمذی ، کتاب الایمان ، با ب ماجا ء فی حرمۃ الصلوۃ ،۴/۲۸۰، حدیث:۲۶۲۶)

آئیے! ترغیب کے لئے ایک مَدَنی بہار سنتے ہیں، چنانچہ

میں پتنگ بازی کا شوقین تھا!

کراچی کے ایک اسلامی بھائی خُوش قسمتی سے مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی کی اِنْفِرادی