Share this link via
Personality Websites!
جہتوں سے بھی آگاہ کرتی ہے۔ جس طرح اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے جسم کا رُواں رُواں سرکارِ دوعالم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی محبت سے لبریز تھا اسی طرح آپ کی نعتیہ شاعری کا ہر ہر لفظ عشقِ رسول میں ڈوبا نظرا ٓتا ہے۔ آپ کا عشقِ رسول اس درجۂ کمال پر تھا کہ آج سو سال گزرنے کے باوجود بھی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے لکھے ہوئے اشعار جہاں پڑھے جائیں سننے والے اپنے دلوں میں عشقِ رسول کی تڑپ کو مزید بڑھتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ ان کے دل جھوم اٹھتے ہیں اور بلا اختیار زبان سے سُبْحَانَ اللہ سُبْحَانَ اللہ کی صدائیں نکلتی نظر آتی ہیں۔ آج کے بیان کا موضوع بھی یہی ہےیعنی ”اعلیٰ حضرت کی شاعری اور عشقِ رسول “اللہ کرے کہ ہم پورا بیان توجہ کے ساتھ سننے کی سعادت حاصل کر لیں۔
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
آئیے پہلے ایک حکایت سنتے ہیں:
مالداروں کی چاپلوسی کیوں کروں ؟
ایک مرتبہ رِیاست نان پارہ (ضِلع بہرائچ یو پی ہند) کے نواب کی مَدح میں شعرا نے قصائد لکھے۔سرکارِ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ بھی ماہر اور عظیم شعرا میں سے تھے لہٰذا آپ سے بھی کچھ لوگوں نے گزارِش کی کہ نواب صاحب کی تعریف میں کوئی قصیدہ لکھ دیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے نواب صاحب کی تعریف میں کوئی قصیدہ تو نہ لکھا البتہ اس گزارش کے جواب میں پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں آپ نے ایک نعت شریف کہی جس کا مَطْلَع یعنی پہلا شعر یوں ہے:
وہ کمالِ حُسنِ حُضُور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دُور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں
(حدائقِ بخشش،ص۱۰۷)
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami