Book Name:Qiyamat Ki Alamaat

صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب!                                           صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

فیضانِ حدیث

پیارے پیارے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حدیثِ پاک میں سیکھنےکے لیے بہت کچھ ہے۔ آئیے! اس حدیثِ پاک سے حاصل ہونے والے چند نکات سنتے ہیں:

پہلی بات جو سیکھنے کو ملی وہ یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نوری  مخلوق یعنی فرشتہ ہیں، بلکہ تمام نوری فرشتوں کے سردار ہیں،سَیِّدُالْمَلَائکہ ہیں اور مسلم شریف کی حدیثِ پاک ہے کہ رسولِ کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:اللہ  پاک نے فرشتوں کو نور سے پیدا فرمایا ہے۔ (مسلم،کتاب الزہد والرقائق ،باب فی احادیث متفرقۃ،  ص۱۲۲۱ ، حدیث:۷۴۹۵)

معلوم ہواحضرت جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَامبھی نور سے پیدا کئےگئے ہیں، نور ہونے کے باوجود حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامبشر (آدمی)بن کر ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اس طرح کہ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی انہیں نہ پہچان سکے، اس سے معلوم ہوا کہ جب حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنوری مخلوق ہونے کے باوجود بشر بن کر اس دنیا میں آئے ہیں تو ہمارے پیارے آقا، دوجہاں کے داتا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی نور ہونے کے باوجود بشر بن کر اس دنیا میں تشریف لائے ہیں۔

حضرتِ جابِربن عبداللہ انصاری رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کہتے ہیں، میں نے عرض کی:”یَارَسُوْلَاللہ  (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ)! میرے ماں باپ حُضور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ) پر قربان! مجھے بتائيے کہ سب سے پہلے اللہ پاک نے کیا چیز بنائی؟“ فرمایا: ”اے جابِر ! بے شک بِالیقین، اللہ  پاک نے تمام مخلوقات سے پہلے تیرے