Share this link via
Personality Websites!
ہر مبلغہ بیان کرنے سے پہلے کم از کم تین بار پڑھ لے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ
نَـوَیْتُ سُنَّتَ الاعْتِکَاف (ترجَمہ:میں نے سنّتِ اعتکاف کی نیّت کی)
اَمیرُ الْمُؤمِنِین حضرت عمر بن خطّاب رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فرماتے ہیں:
اِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوْفٌ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ لَا یَصْعَدُ مِنْہُ شَیْئٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ عَلٰی نَبِیِّکَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ
یعنی بے شک دُعا زمین وآسمان کے درمیان ٹھہری رہتی ہے اور اُس سے کوئی چیز اُوپر کی طرف نہیں جاتی، جب تک تم اپنے نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ پردُرُودِ پاک نہ پڑھ لو ۔
(ترمذی ، کتاب الوتر،باب ماجآء فی فضل الصلوۃ…الخ،۲/۲۸،حدیث:۴۸۶)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو!آئیے!اللہ پاک کی رضا پانے اورثواب کمانے کے لئے پہلے اَچّھی اَچّھی نیّتیں کرلیتی ہیں۔ فَرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ’’نِـيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَـیـْرٌ مِّـنْ عَمَلِهٖ‘‘مُسَلمان کی نِیَّت اُس کے عَمَل سے بہتر ہے۔([1])
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami