Share this link via
Personality Websites!
افسوس کہ ایک تعداد کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ اللہ پاک کی دی ہوئی نعمت پر اس کا شکر ادا کیسے کریں، کچھ اسلامی بہنیں نعمتوں پر زبانی کلامی یوں کہتی سنائی د یتی ہیں، بھئی اللہ پاک کا دیا سب کچھ ہے، کرم ہے مالک کا، اس کا شکر ہے سب کچھ عطا فرمایا، یہ بھی غنیمت ہے جبکہ بعض علم سے دور اور ناسمجھ نعمتوں کو تو مَعَاذَ اللہ گناہوں میں استعمال کر ر ہی ہو تی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ شکر بھرےجملے بھی کہہ ر ہی ہو تی ہیں۔ یاد رکھیں! نعمت کا حقیقی شکر یہی ہے کہ اس نعمت پر زبان سے بھی شکر ادا کیا جائے اور اس نعمت کو نیکیاں کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔ حضرت سیِّدُنا ابوعبداللہ رازی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سُفْیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے مجھ سے فرمایا: ابوعبداللہ! نعمت پرشکرِخداوندی یہ ہے کہ تُو اُس کی حمد(تعریف) کرے اوراس نعمت سے نیکی پر مدد حاصل کرے۔ جس نے نعمتِ الٰہی سے گُناہ پر مدد لی اُس نے اللہپاک کا اس کی نعمت پر شکر ادانہیں کیا۔(حلیۃالاولیاء وطبقات الاصفیاء، ۷/۳۲۸)جبکہ جسمانی اعضاء کاشکر کیسے ادا ہوتا ہے، آئیے مع تبصرہ سنتی ہیں:
ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا ابُو حازِم رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ سے عرض کی:اے ابُو حازم!آنکھوں کا شکر کیا ہے؟ارشاد فرمایا:ان کے ذریعے کوئی اچھی بات دیکھو تواسے عام کرواور اگر بُری بات دیکھو تو اُسے چھپالو۔
افسوس!ہماری ایک تعداد ہے جن کی آنکھیں اچھے کام اور اچھی باتیں دیکھنے سے بہت دوررہتی ہیں جبکہ برے کام بری باتیں دیکھنے کی جستجو میں رہتی ہیں۔
عرض کی:کانوں کا شکر کیا ہے؟ارشاد فرمایا:اگر ان کے ذریعے اچھی بات سنُو تو اسے یاد(Bear in
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami