Share this link via
Personality Websites!
حکیموں کا کہنا ہے کہ گوشت کھانے سے(بد ن کی)70 قُوّتوں میں اِضافہ ہوتا ہے،اس سے دیکھنے کی قوت زیادہ ہوتی ہے،گوشت بدن کے رنگ کو نکھارتا ہے،پیٹ کو بڑھنے نہیں دیتا،اخلاق و عادات کو بہتر بناتا ہے،گردن کا گوشت عُمدَہ لَذِیذ،جلد ہضم ہونے والا اور ہلکا ہوتا ہے،دَسْت کا گوشت سب سے ہلکا،لذیذ تَرین،جلد ہضم ہونے والا اور بیماری سے خالی ہوتا ہے،بچھڑے کا گوشت بالخصوص جب کہ بچھڑا فربہ ہو،نہایت درمیانہ،لذیذ،عُمدہ اور پسندیدہ ہوتا ہے،گرم تَر ہوتا ہے اوراگر عُمدَہ طَرِیقے سے ہضم ہوجائے تواس کا شمار قُوّت بخش غذا میں ہوتا ہے۔عام طورپراستعمال کے لئے شوربے والا گوشت بہتر رہتا ہے، سب سے بہتر گوشت بکرے کا ہوتاہے،بکرے کے گوشت میں دَسْتی اور شانہ وہ مقامات ہیں جہاں پر ریشے موٹے نہیں ہوتے،ایسا گوشت جلد گلتا اور مُلائم ہوتا ہے،پُشت (Back)کے گوشت کا ریشہ ران سے کم موٹا ہوتا ہے ،اس میں خون پیدا کرنے والے اجزا ملتے ہیں،گوشت بدن کو بڑھا کر طاقت بخشتا ہے،گوشت کے فوائد جانوروں کےحساب سے مختلف ہیں،بکری کا گوشت صاف خون پیدا کرتا اورگرم مزاجوں کے لئے مفید ہے۔
آئیے! اب کثرت سے گوشت کھانے کے” نُقصانات“ بھی سُنتے ہیں :
یادرکھئے!انسانی جسم کیلئے ہفتے میں دو تین (2/3) بار سے زیادہ گوشت كا استعمال نُقصان ده ہے، بڑے جانور كا گوشت زياده كھانا”آبیل مجھے مار“ والی بات ہے کیونکہ اس سے مسوڑھے اور دانت خراب ہوتے ہیں،گوشت کی کثرت سے گُردوں(Kidneys)میں یُورِک ایسِڈ(Uric Acid)کی زِیادتی ہو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami