Share this link via
Personality Websites!
وطن چھوڑا، دُور دراز شہروں کا سفر اِختیار فرمایا اورانتہائی کَم عُمْر میں ہی میدانِ حدیث میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کیا۔آئیے!حضرت سَیِّدُنا امام بُخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے شَوقِ عِلْم کی چند جھلکیاں مُلاحَظہ کیجئے، چنانچہ
حضرت سَیِّدُنا مُحَمَّد بن اِسمٰعیل بُخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ جب دس(10) سال کے ہوئے تو اِبتدائى اور ضرورى تعلىم حاصل کر چکے تھے، اللہ پاک نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے دل مىں عِلْمِ حدىث حاصِل کرنے کا شوق پىدا کىا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے ’’بُخارا‘‘مىں(عِلْمِ حدیث حاصل کرنے کے لئے ایک مَدْرَسے میں)داخِلہ لے لىا، عِلْمِ حدىث اِنتہائى محنت سے حاصِل کىا، سولہ (16)سال کى عمر مىں حضرت سَیِّدُنا امام بُخارى رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اپنے بڑے بھائی اور والدہ کے ساتھ حج کرنے کے لئے مکے مدینے میں حاضر ہوئے، والدہ اور بھائی تو حج سے فارغ ہونے کے بعد واپسی وطن آگئے مگر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ مزىد عِلْم حاصل کرنے کے لئے وہىں رہے اور اٹھارہ(18) سال کی عمر میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے وہیں پر ہی ایک کتاب([1])تصنیف فرمائی۔ (ارشاد السارى، ترجمۃ الامام بخاری، ۱/ ۵۶ ملخصاً)(تذکرۃ المحدثین، ص۱۷۲ملخصا)
حضرت سَیِّدُنا امام بُخاری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے چھ(6)سال حِجاز ِمُقَدَّس(یعنی عَرَب شریف کا وہ حِصَّہ جس میں مکۂ پاک، مدینۂ پاک اور طائف کے علاقے شامل ہیں)میں رہ کر خوب عِلْمِ دین حاصِل کیا۔عِلْمِ دین حاصل کرنے کےلئے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے کئی سفر اِختیار فرمائے، 2 مرتبہ شام، مِصْر اورجزیرہ، 4مرتبہ بَصر ہ اور کئی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami