Share this link via
Personality Websites!
بُخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کےپَردادا مُغِیْرہ کھیتی باڑی کرنے والے اور غیرِ خدا کی عبادت کرنے والے تھے لیکن بعد میں حاکمِ بُخارا”ىَمان جُعْفِىْ“کے ہاتھ پر اسلام لائے۔حضرت سَیِّدُنا امام بُخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ نے تقریباً باسٹھ(62)سال کی عُمْر پائی اور(یکم شَوَّال) 256 ہجری بروز ہفتہ عِیْدُ الْفِطْر کی رات بیماری کی حالت میں وِصالِ ظاہری فرمایا۔ (اشعة اللمعات، ۱/ ۹ -۱۳ملتقطاً)(ارشاد الساری، ترجمۃ الامام بخاری ، ۱/ ۵۵-۵۶ ملتقطاً)
اَمِیْرُالمُؤمِنِیْن فِی الْحدیث، حافِظُ الْحدیث، مُحَدِّث، مُفْتِی، حِبْرُالْاِسْلام وغیرہآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہکے مشہور اَلقابات ہیں۔
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے اساتذہ کی تعداد
(حضرت سَیِّدُنا)امام بخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے اساتذۂ کرام کی تعداد ایک ہزاراَسّی(1080) ہے۔(نزہۃ القاری، ۱/ ۱۱۹)
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے شاگردوں کی تعداد
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:(حضرت سَیِّدُنا)امام بُخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہنے اِنتقال فرمایا(تو) نَوّے ہزار(90، 000)شاگرد مُحَدِّث(عِلْمِ حدیث کے جاننے والے)چھوڑے۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص۲۳۸)
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے والدِ مُحْتَرَم کا مُخْتَصر تعارُف
حضرت سَیِّدُنا امام بُخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے والد ِ ماجِد زَبَرْدَسْت عالِمِ دین تھے، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ امام بُخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے اُستاذ حضرت سَیِّدُنا عَبْدُاللہ بِن مبارَک رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی صُحبت میں رہتے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami