Share this link via
Personality Websites!
شفاعت کروں گا اور اُس کے لئے گواہی دوں گا۔)مشکاۃ المصابیح، کتاب العلم، الفصل الثالث، ۱/ ۶۸، حدیث: ۲۵۸ ((2)فرمایا:اللہ پاک اُس کوتَروتازہ رکھے جو میری حدیث کو سُنے، یاد رکھے اور دوسروں تک پہنچائے ۔(تِرمِذی، ۴/ ۲۹۸، حدیث:۲۶۶۵)٭اسلام میںکلامُاللہ(یعنی قرآنِ کریم)کے بعد کلامِ رسولِ اللہ(یعنی احادیثِ مبارَکہ)کا درجہ ہے۔(مرآۃ المناجیح، ۱/ ۲) ٭ہرانسان پرحُضور عَلَیْہِ السَّلَام کی اِطاعت فَرْض ہے اور یہ اِطاعت بغیرحدیث و سُنّت جانے ناممکن ہے۔(مرآۃ المناجیح ، ۱/ ۹)٭اَحادیث سے اِنکار کے بعد قرآن پر اِیمان کا دعویٰ باطِلِ محض ہے۔(نزہۃ القاری ، ۱/ ۶ ۳)٭جب تک یہ معلوم نہ ہوجائے کہ یہ واقعی حدیث مبارَک ہے، اُس وَقْت تک بَیان نہ کریں۔(فیضانِ فاروق اعظم ، ۲/ ۴۵۱)٭آقا عَلَیْہِ السَّلَام کا فرمان ہے:جب تک تمہیں یقینی عِلْم نہ ہو میری طرف سے حدیث بیان کرنے سے بچو، جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹ منسوب کیا اُسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔(ترمذی، کتاب تفسیر القرآن عن رسول اللہ، باب ماجاء فی الذی الخ، ۴/ ۴۳۹، حدیث:۲۹۶۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami