Share this link via
Personality Websites!
بُخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کا وہ عظیم کارنامہ ہے جس نے نہ صِرْف عوام و خواص میں مقبولیت کی معراج پائی بلکہ بارگاہِ رسالت سے بھی اِسے مقبولیت کا اعزاز عطا ہوا، یُوں کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَنے اِسے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے”میری کتاب“فرمایا ، چنانچہ
بارگاہِ رسالت میں صحیح بخاری شریف کی مقبولیت
حضرت سَیِّدُنا امام ابو زید رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں ایک مرتبہ مکّے شریف میں مقامِ اِبراہیم اور حَجَر ِاَسْوَد کے درمیان سو رہا تھا کہ میرا نصیب جاگا اور خواب دیکھا کہ نبیِّ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ فرما رہے ہیں:اے ابو زید!کتابِ شافِعِی کا دَرْس کب تک دو گے، ہماری کتاب کا دَرْس کیوں نہیں دیتے؟آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں نے عَرْض کی:یارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ!میری جان آپ(صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ)پر قربان!آپ(صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ)کی کتاب کونسی ہے؟مَدَنی آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے اِرْشاد فرمایا:جامع محمد بن اسماعیل یعنی امام بُخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی کتاب”بخاری شریف“۔(بستان المحدیثین، ص ۲۷۵ملخصاً)
پیاری پیاری اسلامی بہنو! غور فرمائیے!جس کتاب کو رسولِ پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ پسند فرمائیں اور اُسے اپنی طرف منسوب فرمائیں تو اندازہ لگائیے کہ اُسے پڑھنے ، سُننے اور اُس کا ختم کرنے والیوں کو اِس کی کیسی کیسی بَرکتیں نصیب ہوں گی۔آئیے!ترغیب کے لئے خَتْمِ بُخاری کی چند بَرکتیں مُلاحَظہ کیجئے، چنانچہ
(بعض)عارفین رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہِم اَجْمَعِیْن سے منقول ہے:اگر کسی مشکل میں صحیح بخاری کو پڑھا جائے تو وہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami