Share this link via
Personality Websites!
باکمال ہستیوں میں ہوتا ہے جو ادب و تعظیم کے پیکر اور سچے عاشقِ رسول تھے، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے ادب و تعظیم کا دامن تھام کر عشقِ مُصْطَفٰے کے گہرے سَمُنْدَر میں ڈوب کر لاکھوں احادیثِ کریمہ میں سے”صحیح بُخاری“کی صورت میں صحیح ترین احادیثِ مبارَکہ کا قیمتی خزانہ جمع کرکے اُمّتِ سَرکار کو عطا فرمایا۔آئیے!اِس مبارَک کتاب کی شان و عظمت سُنئے اور جُھومئے، چنانچہ
امام بُخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کا حدیث لکھنے کا انداز
حضرت سَیِّدُنا امام بُخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:اَلْحَمْدُلِلّٰہمیں نے”صحیح بُخاری“میں تقریباً چھ ہزار(6000)احادیث ذِکْر کی ہیں، ہر حدیث کو لکھنے سے پہلے غُسْل کرتا، دو رکعت نفل نماز ادا کرتا اور اِستخارہ کرتا۔جب کسی حدیث کی صِحَّت پر دل جمتا تو اُسے کتاب میں شامل کر لیتا۔(ہدی الساری، مقدمۃ، ۱/ ۱۰) (نزہۃ القاری، ص۱۳۰)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:مجھے چھ لاکھ حدیثیں یاد ہیں، جن میں سے چن چن کر سولہ(16) سال میں، میں نے اِس جامع(بخاری)کو لکھا ہے، میں نے اِسے اپنے اور اللہ پاک کے درمیان دلیل بنایا ہے۔(مقدمہ فتح الباری، ص۱۰)میں نے اپنی اِس کتاب میں صِرْف صحیح اَحادیث داخِل کی ہیں اور جن حدیثوں کو میں نے اِس خیال سے کہ کتاب بہت لمبی نہ ہوجائے چھوڑدیا وہ اِس سے بہت زیادہ ہیں۔
(نزہۃ القاری، ص۱۳۰)
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے دیگر بھی کئی کتابیں([1])لکھی ہیں مگر صحیح بخاری شریف حضرت سَیِّدُنا امام
[1] مثلاًالتاریخ الکبیر،التاریخ الاوسط،التاریخ الصغیر،کتاب الضعفاء،خلق افعال العباد،المسندالکبیر،کتاب العلل،الادب المفرد وغیرہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami