Share this link via
Personality Websites!
کرنے والے اور عقیدت مَند حضرات بھی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کےساتھ تھے مگر اِس کے باوُجود آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اپنے ہاتھوں سے اِىنٹىں اُٹھا اُٹھا کر دىوار مىں لگارہے تھے، مىں نے آگے بڑھ کر کہا: آپ رہنے دىجئے ىہ اىنٹىں مىں لگا دىتا ہوں، اِرْشاد فرماىا:قِىامت کے دن ىہ عمل مجھے فائدہ دے گا۔
(ارشاد الساری، ترجمۃ الامام بخاری، ۱/ ۶۵)
حضرت سَیِّدُنا امام بُخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے طلبِ عِلْم کے دوران بسا اوقات سُوکھى گھاس کھا کر بھى وَقْت گزارا، کبھی کبھار اىک دن مىں عام طور پر صِرْف دو ىا تىن بادام کھاىا کرتے تھے۔اىک مرتبہ بىمار پڑگئے، حکیموں نے بتلاىا کہ سُوکھى روٹى کھا کھا کر اِن کى اَنتڑىاں سُوکھ چکى ہىں، اُس وَقْت آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے بتاىا کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ 40 سال (Forty Years) سے خُشْک روٹى کھا رہے ہىں اور اِس عَرْصے مىں سالن کو بالکل بھی ہاتھ نہىں لگاىا۔(تذکرۃ المحدثین، ص۱۸۲)
پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ نے سنا کہاللہ والوں میں عِلْمِ دین حاصل کرنے کا کیسا زَبَرْدَست مَدَنی جَذبہ ہوا کرتا تھا جو سالن کے بغیر سُوکھی روٹی کھاکر بھی اِنتہائی ذَوق و شَوق کے ساتھ عِلْمِ دین سیکھنے میں مشغول رہا کرتے تھے، جبکہ آج ہمارا معاشرہ دُنیوی عُلوم و فُنون کی ڈگریوں اور مال جمع کرنے کی خاطِر دن رات مصروفِ عمل دکھائی دیتا ہے، مگر دِینی مدارِس و جامِعات میں بہترین اور مفت سہولیات کے باوُجود پڑھنے والوں کی تعداد اِنتہائی کم نظر آتی ہےاور حال یہ ہے کہ بہت سے لوگ شریعت کے بنیادی فرائض و واجبات سے غافل نظر آتے ہیں، عِلْمِ دین سیکھنا صِرْف کسی ایک خاص گِروہ کا کام نہیں بلکہ اپنی ضرورت کے مطابِق عِلْم سیکھنا ہر مسلمان پر فَرْض ہے ۔لیکن نہایت افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمانوں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami