Share this link via
Personality Websites!
فرمائیے۔
حافظہ مضبوط کرنے کا آسان وظیفہ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدِ نِ النَّبِیِّ الْکَامِلِ وَعَلٰی اٰلِہٖ کَمَا لَا نِھَایَۃَ لِکَمَالِکَ وَعَدَدَ کَمَالِہٖ
شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اس دُرودِ پاک کی فضیلت نقل فرماتے ہیں: اگر کسی شخص کو نسیان یعنی بھول جانے کی بیماری ہو تو وہ مغرب اور عشاء کے درمیان اس دُرودِپاک کو کثرت سے پڑھے، اِنْ شَآءَ اللہ حافظہ قوی ہوجائے گا۔(مَدَنی پنج سورہ، ص۱۶۹)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! عموماً دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی اپنے کسی کارنامے کے سبب میں مشہور ہوجائے تو وہ اپنے آپ کو ”کچھ“سمجھنے لگتی ہے، دوسروں کو حَقارت کی نظر سے دیکھتی ہے، اپنے کام کاج اپنے ہاتھوں سے کرنے میں شرم اور ذِلَّت محسوس کرتی ہے، دُنیوی حِرْص و لالچ اور مزید شہرت کا بُھوت اُس پر سُوار ہوجاتا ہے اور وہ دُنیوی لذّات میں ڈوب کر فِکْرِ آخرت سے غافِل ہوجاتی ہے۔لیکن قُربان جائیے حضرت سَیِّدُنا امام بُخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ پر!لاکھوں حدیثیں یاد کرلینے کے باوُجود غُرور و تَکَبُّر کو کبھی اپنے قریب بھی بھٹکنے نہ دیا، عاجِزی و اِنکساری کا دامن تھامے رکھا، عَمَلی طور پر سادگی اپنائی اور دورانِ طالبِ عِلْمی سے ہی زُہد و قَناعت کو اِختیار فرمالیا ، چنانچہ
امام بُخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی عاجزی و انکسارى
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے خُصوصى شاگِرد محمد بن حاتِم وَرَّاق رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ بَىان کرتے ہىں:اىک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا امام بُخارى رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ بُخارا کے قرىب مسافروں کے ٹھہرنے کا مکان بنارہے تھے، خدمت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami