Share this link via
Personality Websites!
موقع کی مناسبت اور نوعیت کے اعتبار سے نیتوں میں کمی بیشی وتبدیلی کی جا سکتی ہے۔
نگاہیں نیچی کئے خُوب کان لگا کر بَیان سُنُوںگی۔ ٹیک لگا کر بیٹھنے کے بجائے عِلْمِ دِیْن کی تَعْظِیم کی خاطِر جہاں تک ہو سکا دو زانو بیٹھوں گی۔ضَرورَتاً سِمَٹ سَرَک کر دوسری اسلامی بہنوں کے لئے جگہ کُشادہ کروں گی۔دھکّا وغیرہ لگا تو صبر کروں گی، گُھورنے،جِھڑکنےاوراُلجھنے سے بچوں گی۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ، اُذْکُرُوااللّٰـہَ، تُوبُوْا اِلَی اللّٰـہِ وغیرہ سُن کر ثواب کمانے اور صدا لگانے والی کی دل جُوئی کے لئےپست آواز سے جواب دوں گی۔اجتماع کے بعد خُود آگے بڑھ کر سَلَام و مُصَافَحَہ اور اِنْفِرادی کوشش کروں گی۔ دورانِ بیان موبائل کے غیر ضروری استعمال سے بچوں گی، نہ بیان ریکارڈ کروں گی نہ ہی اور کسی قسم کی آواز کہ اِس کی اجازت نہیں ،جو کچھ سنوں گی، اسے سن اور سمجھ کر اس پہ عمل کرنے اور اسے بعد میں دوسروں تک پہنچا کر نیکی کی دعوت عام کرنے کی سعادت حاصل کروں گی۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
عاشقانِ رسول اسلامی بہنو!ایصالِ ثواب کے لفظی مَعنیٰ ہیں:’’ثواب پہنچانا‘‘اس کو’’ثواب بخشنا‘‘بھی کہتے ہیں مگر بُزرگوں کیلئے’’ثواب بخشنا‘‘ کہنا مُناسِب نہیں ،’’ثواب نَذْر کرنا‘‘کہنا ادب کے زیادہ قریب ہے۔اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:حُضُورِاقدس عَلَيْهِ اَفْضَلُ الصَّلاةِ وَالتَّسْلِيْم خواہ اورنبی یاولی کو’’ثواب بخشنا ‘‘کہنابے ادَبی ہے،بخشنا بڑے کی طرف سے چھوٹے کوہوتاہے بلکہ نَذر کرنایاہدِیَّہ کرناکہے۔(فتاویٰ رضویہ،۲۶/۶۰۹)
مَلِکُ الْعُلَمَاء حضرت علامہ ظفر الدِّین بہاری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہنےاِیصالِ ثواب(ثواب پہنچانے)کے جو طریقے بتائے ان میں سے دُعائے مغفرت اور دُعائے رحمت کرنا بھی ہے۔
قرآنِ کریم سے ثواب پہنچانے کا ثبوت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami