Book Name:Aaqa Ka Safar e Meraj (Shab-e-Mairaj-1440)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                   صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

پیارے پیارےاسلامی بھائیو!مِعراج کی رات نبیِّ پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جہاں جنت میں فرمانبردار بندوں پر ہونےوالےاِنعاماتِ اِلٰہیہ کو دیکھاوہیں نافرمانوں پر ہونے والے مختلف قسم کے دردناک عذابات  کو بھی ملاحظہ فرمایا، چنانچہ

لوگوں کی غیبت اور عیب جوئی کرنے والوں کا دردناک انجام

       کریم آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کچھ  ایسے لوگوں کے پاس سےگزر ے جن پر کچھ اَفراد مُقَرَّر تھے، اِن میں سےبعض افراد نےاُن لوگوں کےجَبڑے کھول رکھے تھےاوربعض دوسرے اَفراد اُن کا گوشت کاٹتے اور خون کے ساتھ ہی اُن کےمنہ میں دھکیل دیتے۔پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پوچھا:اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ عرض کی:یہ لوگوں کی غیبتیں اور اُن کی عیب جوئی کرنے والے ہیں۔([1])

رسولِ انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دوزخ میں کچھ ایسے لوگ بھی دیکھے جو آگ کی شاخوں سے لٹکے ہوئے تھے۔آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ عرض کی: یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں اپنے والِدَین کو گالیاں دیتے تھے۔([2])

اس رات نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایسے لوگوں کے پاس بھی تشریف لائے جن کے آگے اور پیچھے چیتھڑے لٹک رہے تھے اور وہ چار ٹانگوں والے جانوروں کی طرح چَرتے ہوئے کانٹوں والی گھاس،کانٹوں والا درخت اور جہنّم کے تَپے ہوئے(گرم) پتھر نگل رہے تھے۔ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ


 

 



([1])   مسند الحارث، كتاب الايمان، باب ما جاء فى الاسراء، ۱/۱۷۲، حديث:۲۷

([2])   الزواجر، كتاب النفقات على الزوجات   الخ، الكبيرة الثانية بعد الثلاثمائة،۲/۱۲۵