Share this link via
Personality Websites!
اللہُ عَنْہُ کی طرف بڑھے،آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو زخمی دیکھ کر اپنى اُمّت کے غم مىں آنسو بہانے والے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر بڑی رِقّت طاری ہوئی۔
امیرُالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابوبکرصدیقرَضِیَ اللہُ عَنْہُنے عرض کی:یارسولَ الله صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں ٹھیک ہوں بس چہرہ تھوڑا زخمی ہوگیاہے۔ جس دن آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو تکالیف دی گئیں، اسی روزآپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی والدہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمُّ الْخَیر سلمٰی اور حضرت سَیِّدُنا امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا بھی اسلام لے آئے تھے۔([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو!آپ نے سنا کہ امیرُالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابُو بکرصِدِّیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نےعشقِ رسُول میں ڈوب کر دِینِ اِسلام کی تبلیغ کیلئے کس قدر آزمائشیں برداشت کیں۔ اسلام کے اس عظیم مُبَلِّغ نے اپنا سب کچھ اللہ کریم اور الله پاک کى رحمت بن کر دنىا مىں تشرىف لانے والے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحَبَّت میں قربان کردیا، اس قدر تکلیفیں اور مصیبتیں پہنچنے کے بعد بھی اپنی فکر چھوڑ کر اپنے محبوب آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یاد کر رہے ہیں اور بے قرار ہیں کہ کسی طرح مجھے اپنا قُرب بخشنے والے مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حال معلوم ہوجائے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کسی پریشانی میں تو نہیں،ذرا غو ر فرمائیے!ہر عىب سے پاک آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جانثار صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے عشق و محبت کا تو یہ عالَم تھا۔آئیے!ہم بھی غورکر تی ہیں کہ ہم امت کے غم مىں آنسو بہانے والے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کیسی مَحَبَّت کر تی ہیں ؟کیا ہمارے اندر بھی اسلام کی خاطِر قُربانی دینے کا جذبہ موجود ہے؟صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور بزرگانِ دِین رَحْمَۃُاللّٰہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن تو جان ومال کی قُربانی دینے سے بھی نہیں گھبراتے تھے،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami