Share this link via
Personality Websites!
پینے کے لئے کہتیں تو آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ صرف ایک ہی جملہ کہتے:”اللہ پاک کے رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کس حال میں ہیں؟مجھے صرف ان کی خبردو۔یہ حالت دیکھ کر آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی والدہ کہنے لگیں،اللہ پاک کی قسم! مجھے آپ کے دوست کی خبر نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں؟آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے فرمایا:آپ اُمِ جَمِیل بنتِ خطّاب رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا کے پاس چلی جائیں اور ان سے رحمت بن کر دنیا میں تشریف لانے والے آقا،غم کے ماروں کو سینے سے لگانے والے مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں سُوال کریں،آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی والدہ،اُمِّ جَمیل بنتِ خطاب رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا کے پاس آئیں اور کہا کہ میرا بیٹاابوبکر آپ سے اپنے دوست محمد بن عبدُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں پوچھ رہا ہےکہ وہ کیسے ہیں؟حضرت اُمِّ جمیل رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا نے اِس سُوال کا جواب دینے کے بجائے کہا :اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے ساتھ آپ کے بیٹے کے پاس چلتی ہوں، دونوں حضرت سَیّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُکے پاس پہنچیں توآپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے ان سے یہی پوچھا کہاللہ پاک کے رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکس حال میں ہیں؟
تو حضرت اُمِّ جمیل رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا نے بتایا:سیدہ فاطمہ کے بابا،امام حسن و حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُما کے نانا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَمحفوظ اوربالکل خیریت سے ہیں۔آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے پوچھا:اُمتیوں کے حال کی خبر رکھنے والے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس وقت کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا:دارِ ارقم میں تشریف فرما ہیں۔فرمایا:خدا کی قسم!میں اس وقت تک نہ کچھ کھاؤں گا اور نہ پیوں گا، جب تک بے سُکونوں کو سُکون بخشنے والے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکوبذاتِ خُود نہ دیکھ لُوں،بہرحال جب سب لوگ چلے گئے تو آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی والدہ اوراُمِ جمیل بنتِ خطاب،آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو بارگاہِ رسالت میں لے گئیں،جب اُمتیوں پر مہربانیاں فرمانے والے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنے اس سچے عاشق کو دیکھاتو آنکھوں میں آنسو آگئے اورآگے بڑھ کر اُنہیں تھام لیا، ان کے بوسے لینے لگے۔یہ مُعامَلہ دیکھ کرتمام مسلمان بھی آپ رَضِیَ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami