Share this link via
Personality Websites!
کی وصيت کرتا ہوں۔پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پڑوسيوں کے اس قدر حُقوق بيان فرمائے کہ ایسے لگا جیسےآپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُسے وراثت ميں حصہ دار بنا ديں گے۔([1])
اللہ کریم ہمیں بھی پڑوس کی اسلامی بہنوں کا خُوب خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
سَیِّدُنا صِدِّیقِ اکبررَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے فرامین
پیاری پیاری اسلامی بہنو! امیرُالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا صِدِّیق اکبررَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے جس طرح اپنے کردار کے ذریعے لوگوں کی اصلاح فرمائی، اسی طرح آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے اپنے نصیحت آموز فرامین کے ذریعے بھی نیکی کی دعوت دے کر اُمّت کی رہنمائی فرمائی،چنانچہ
حضرت سیدنا رافع رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فرماتے ہیں:میں امیرُالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابوبکرصِدِّیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر تھا، میں نےعرض کی:آپ مجھےنصیحت فرمائیں۔آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے دو (2)بار فرمایا:اللہ پاک تُم پر رحم کرے اور بَرَکت دے۔(پھر فرمایا:)(1)فرض نمازیں وَقْت پر ادا کیا کرو۔ (2)زکوٰۃ خُوشی سے دیا کرو۔(3)رَمَضان کے روزے رکھو۔(4) بَیْتُاللہ کا حج کرواور(5)کبھی حاکم نہ بنو۔میں نے عرض کی:حُضُور!آج کل تو حکمران ہی اُمّت کے بہترین لوگ ہیں۔ارشاد فرمایا:آج کل حکمرانی آسان ہے،لیکن مجھے یہ ڈر ہے کہ آئندہ زمانے میں فُتوحات کی زیادتی کے سبب حکومتیں بھی زیادہ ہوں گی اور اس طرح ممکن ہے کہ نا اہل حکمران بھی آئیں گے۔ جب کہ قیامت کے دن حاکم کا حِساب
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami