Share this link via
Personality Websites!
ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ پڑوسیوں کے حق میں نہایت نرم دل تھے،جیساکہ
حضرت سَیِّدُنا عبدُ الرَّحمن بِن قَاسِم رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اپنے والِد سے رِوایَت کرتے ہیں:ایک بار امیرُالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابُوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ حضرت سَیِّدُنا عبدُالرحمن بن ابُوبکر رَضِیَ اللہُ عَنْہُما کے پاس سےگُزرے تووہ اپنے پڑوسی کو ڈانٹ رہے تھے،آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے ان سے فرمایا:اپنے پڑوسی کے ساتھ جھگڑا مت کرو، کیونکہ یہ تویہیں رہے گا،لیکن جولوگ تُمہاری لڑائی کودیکھیں گے وہ یہاں سے چلے جائیں گے۔([1])
پیاری پیاری اسلامی بہنو!آپ نے سنا کہ امیرُالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے پڑوسی کے ساتھ جھگڑنے والے شخص کو کس قدر اچھے انداز میں نیکی کی دعوت پیش کی۔ اس میں ہمارے لئے بھی بہت سے مدنی پھول موجود ہیں واقعی جب پڑوسنیں آپس میں کسی بات پر جھگڑتی ہیں تو اس میں اُن کا اپنا ہی نقصان ہوتاہے ،کیونکہ لڑائی کے بعد بھی انہیں ایک ساتھ ہی رہنا ہے اور ان کا آپس میں جھگڑا کرنا دیگر دیکھنے والیوں کے لیے تماشا بن جاتاہے۔
یاد رہے!اسلام میں پڑوسی(Neighbour)کے حُقُوق کی بہت اہمیت ہے،چنانچہ
اللہ پاک کی رحمت بن کر دنیا میں تشریف لانے والے،پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے کی ترغیب دلانے والے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:ميں تمہیں پڑوسيوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami