Share this link via
Personality Websites!
پیاری پیاری اسلامی بہنو! جس طرح امیرُالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کثرت سے عبادت کیا کرتے تھے اِسی طرح آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کثرت سے روزے بھی رکھا کرتے تھےجیساکہ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُگرمیوں میں(نفل) روزے رکھتے اورسَردِیوں میں چھوڑ دیتے تھے۔([1])واقعی یہ امیرُالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کا ذوقِ عبادت تھا کہ قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہوئے روتے اورفرض روزوں کے علاوہ گرمیوں میں نفل روزے رکھتے ،اگر آج ہم اپنی حالت پر غور کریں تو سردیوں میں فرض روزوں میں بھی سُستی کرتی ہیں حالانکہ سَردِیوں میں عُمُوماً دِن بہت چھوٹے اور راتیں بہت لمبی ہوتی ہیں اور دِن میں پیاس بھی بہت کم لگتی ہے جبکہ گرمیوں میں عُمُوما ًدِن بہت لمبا اور راتیں بہت چھوٹی ہوتی ہیں اور دن میں پیاس کی شِدت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یقیناًیہ دُنیا کی گرمی آخرت کی گرمی کے مُقابلے میں کچھ بھی نہیں کہ جب قِیامَت کا دِن ہوگااور سُورَج سَوا مِیل پر رہ کر آگ برسا رہا ہوگا،شِدَّتِ پیاس سے زبانیں باہر نکل رہی ہوں گی،لوگ اپنے ہی پسینے میں نہارہے ہوں گے،اس وقت کی گرمی برداشت کرنا یقیناً ہمارے بس میں نہیں،لہٰذا دُنیا میں ہی ربِّ کریم کی رِضا کے لیے اچھے اعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہئے،اللہ کریم اور ہم گناہگاروں کی شفاعت فرمانے والےرسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کومَنالیجئے،قِیامَت کے دن اللہ پاک کی رحمت سے عرش کا سایہ پانے کیلئے آج دنیا ہی میں نیکیوں کی کثرت کرنی ہوگی۔آئیے!یہ مدنی سوچ پانے کے لئے عاشقانِ رسول کی مَدَنی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami