Share this link via
Personality Websites!
پاک اور اُس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ذِمّۂ کرم پر چھوڑ آیا ہوں۔([1]) گویا ارشاد فرمایا:میرے اور میرے بال بچوں کے لیے اللہ پاک اور اس کےرسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافی ہیں ۔
میں اپنے ربِّ کریم سے راضی ہوں
حضرت سَیِّدُنا عبدُاللہ بِن عُمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فرماتے ہیں:میں اُمّت کے غم مىں آنسو بہانے والے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےپاس حاضرتھا،وہاں امیرُالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صِدِیق رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ ایسا لباس پہنے تشریف فرما تھے،جس میں بٹنوں کی جگہ کانٹے لگے ہوئے تھے۔اتنے میں جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلام بارگاہ ِرِسالَت میں حَاضِر ہوئے اور عرض کی:یَارسولَ الله صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آج ابوبکر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے ایسا لباس کیوں پہناہوا ہے؟فرمایا: اےجبریل!اس نے اپنا سارا مال فتحِ مکہ سے پہلے مجھ پر قربان کردیا ہے۔جبریلِ امین رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے عرض کیا:اللہ کریم آپ پر سلام بھیجتا ہے اور فرماتا ہے،ان سے پوچھئے کہ وہ اللہ کریم سے راضی ہیں یا ناراض؟اللہ کریم کى عطا سے غىب کى خبرىں دىنے والے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:ابوبکر !اللہ کریم تمہیں سلام ارشاد فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ مجھ سے راضی ہویا نہیں؟امیرُالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے عرض کی:میں اپنے پروردگار سے ناراض کیسے ہو سکتاہوں؟ میں اپنے ربّ کریم سے راضی ہوں، میں اپنے ربّ کریم سے راضی ہوں،میں اپنے ربّ کریم سے راضی ہوں۔( تاریخ مدینۃ دمشق،عبدُ اللہ ویقال عتیق، ۳۰/۷۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اس روایت سےجہاں یہ معلوم ہوتاہےکہ سیدناصدیق اکبررَضِیَ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami