Share this link via
Personality Websites!
سو(100)اُوْقِیَّہسونا مانگتے تو میں وہ بھی دے دیتا اور حضرت بلال رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو ضرور خریدلیتا۔([1])
پیاری پیاری اسلامی بہنو!بیان کردہ واقعہ سے معلوم ہوا!امیرُالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ مسلمانوں پر بہت مہربان تھے، کسی مومن کوتکلیف میں مُبْتَلا نہ دیکھ پاتے اور اپنے مال وسامان کو اس کی جان پرترجیح دیتے تھے۔اسی وجہ سے آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے حضرت بلال حبشی رَضِیَ اللہُ عَنْہُسمیت سات(7)غلاموں کو خرید کر آزاد فرما دیا۔آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نیک ہونے کے ساتھ ساتھ نیک کاموں میں پہل کرنے والے تھے ،چنانچہ
غَزوَۂ تَبُوک کے موقع پر جَب الله پاک کى رحمت بن کر دنىا مىں تشرىف لانے والے محبوب آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنی اُمّت کے مالداروں کو حکم دیا کہ وہ اللہ پاک کی راہ میں مالی اِمداد کے لئے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیں تاکہ اِسلام کی خاطر لڑنے والوں کے لئے کھانے پینے اورسُواریوں کااِنتِظام کیا جاسکے،امت کی خیر خواہی فرمانے والے نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اِس فرمانِ عالیشان پر عمل کرتے ہوئے جس ہستی نے راہِ خدا کے لئے اپنی ساری دولت بارگاہِ رِسالت میں پیش کی،وہ صحابیِ رسول، عاشقِ اکبر امیرُالمؤمنین حضرت سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہُتھے،آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے گھر کا سارا مال و سامان الله کریم کى عطا سے غىب کى خبرىں دىنے والے رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قدموں میں ڈھیر کر دیا، ہر عىب سے پاک نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنے یارِغار کے اِ س اِیثار کو دیکھ کر پوچھا، کیا اپنے گھر بار کے لئے بھی کچھ چھوڑا؟ نہایت اَدَب واحترام سے عَرض گزار ہوئے:اَبْقَيْتُ لَهُمُ اللهَ وَرَسُوْلَهُ یعنی میں اللہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami