Share this link via
Personality Websites!
پایا۔([1]) لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم بھی امیرُالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے خوب خوب مَحَبَّت و عقیدت رکھیں تاکہ اللہ کریم اپنے پیارے کے صدقے ہم پربھی اپنی رحمت کی بارشیں فرمائے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو!امیرُالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی ذاتِ بابَرَکت کو اللہ کریم نے بہترین خوبیوں اور پاکیزہ کردار کا مالک بنایا تھا ۔آئیے! آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے کِردارِ مبارک کی چند جھلکیاں سنتی ہیں،چنانچہ
امیرُالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی ذات میں لوگوں کے ساتھ بھلائی اور خیرخواہی کا جذبہ کُوٹ کُوٹ کر بَھرا ہُوا تھا،یہی وجہ تھی کہ دِینِ اِسلام قبول کرنے کی وجہ سے ظلم و ستم برداشت کرنے والےصَحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے رَحمت ومہربانی کے دریابَہا دِئیے، آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ظلم و ستم کی چکی میں پِسنے والے مسلمانوں کے لئے صرف دل میں ہی ہمدردی کے جذبات نہ رکھتے تھے بلکہ انہیں تکلیفوں سے نجات دلانے کے لئے کوشش فرماتے،اگر اس کام کے لئے مال بھی خرچ کرنا پڑتا تو اِس سے بھی پیچھے نہ ہٹتے ۔آئیے!اس تعلق سے ایک ایمان افروز واقعہ سنئے، چنانچہ
حضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی آزادی
[1] مجمع الزوائد،کتاب المناقب،باب ماجاء فی ابی بکر،۹/۱۹، حدیث: ۱۴۲۹۶، تاریخ الخلفاء،ذکر ابو بکر الصدیق، ص۴۳
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami