Share this link via
Personality Websites!
پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ نے سنا کہاللہ کریم کی بارگاہ میں امیرُالمؤمنین حضرتسَیِّدُنا صِدِیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو کتنا بڑا مَقام حاصِل ہے کہ کئی آیاتِ مُبارَکہ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئیں، اِسی طرح امتیوں پر رحم و کرم فرمانے والے پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں بھی آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کا مقام بہت اعلیٰ تھا، چنانچہ
بارگاہِ رسالت میں مَقامِ صِدِّیق اکبر
حضرت سَیِّدُنا ابوعثمان رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ سے روایت ہے،صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!لوگوں میں آپ کوسب سے بڑھ کر کون محبوب ہے؟ اللہ کریم کى عطا سے غىب کى خبرىں دىنے والے نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:عائشہ(رَضِیَ اللہُ عَنْہا)۔انہوں نے دوبارہ عرض کی:مَردوں میں سے کون ہے؟فرمایا:عائشہ(رَضِیَ اللہُ عَنْہا)کے والد۔([1])(یعنی حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ)حضرت سَیِّدُنا عبدُ اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہما فرماتے ہیں:میں نے دیکھا کہ ہم گناہ گاروں کى شفاعت فرمانے والے کریم آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت سَیِّدُنا علی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے ساتھ کھڑے تھے ،اتنے میں امیرُالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ حاضر ہوئے تو ہم گناہ گاروں کى شفاعت فرمانے والے رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آگے بڑھ کر ان سے ہاتھ مِلایا،پھرگلے لگاکر آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کا مُنہ چُوم لیا اور حضرت سَیِّدُنا علی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے ارشاد فرمایا:اے ابُوالحسن! میرے نزدیک حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کا وہی مَقام ہے، جو اللہ کریم کے ہاں میرا مقام ہے ۔([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami