Share this link via
Personality Websites!
گا۔اُس نے کہا:مجھے کچھ مُہْلَت دیجئے تاکہ میں اِس مال کو تقسیم کردُو ں۔فِرِشتے نے کہا: اب تجھے مُہْلَت نہیں ملے گی،تُونے یہ کام اپنی مَوْت کے آنے سے پہلے کیوں نہ کیا،چنانچہ(پھر)مَلَکُ الْمَوْت (حضرت سَیِّدُناعزرائیل) عَلَیْہِ السَّلَام نے اُس کی رُوح نکال لی۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری ا سلامی بہنو!یاد رکھئے! مال وہی بُرا ہے جس کے حُقوقِ وَاجِبَہ مثلاً زکوٰۃ،فطرہ وغیرہ ادا نہ کئے جائیں،مال وہی بُرا ہے جو ہمیں شَرعی اَحکام پر عمل کرنے،مَوت،قَبْر و حَشْر کے مُعَامَلَات،اچّھے اَعمال و اچّھی صُحْبَت سے غافِل کردے ۔لہٰذا وَقْت کی اَہَمِیَّت کو سمجھنے کی کوشش کیجئے اور جتنی ضرورت ہو اتنا ہی رِزْقِ حلال جمع کیجئے کیونکہ زندگی بار بار نہیں ملتی، اُن اَحادیث و رِوایات کو بھی ذِہْن نشین رکھئے جن میں وَقْت کی اَہَمِیَّت کے بارے میں رَہنمائی کی گئی ہے۔آئیے!بطورِ ترغیب وَقْت کی اَہَمِیَّت پر 3 فَرامِیْنِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سنتی ہیں:
.1 ارشاد فرمایا:دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بَہُت سے لوگ دھوکے میں ہیں:(1)صِحّت اور(2)فُرصت۔(بخاری،کتاب الرقاق،باب ماجاء فی الرقاق …الخ:،۴/۲۲۲،حدیث:۶۴۱۲)
.2 ارشاد فرمایا:پانچ(5)چیزوں کو پانچ(5)چیزوں سے پہلے غَنِیْمت جانو:(1)جَوانی کو بُڑھاپے سے پہلے،(2)صِحَّت کو بیماری سے پہلے،(3)مَالْدَاری کومحتاجی سے پہلے،(4)فُرْصَت کومَشْغُوْلِیَّت سے پہلے اور(5) زندگی کو مَوْت سے پہلے۔(مستدرک،کتاب الرقاق، ۵/۴۳۵، حدیث: ۷۹۱۶)
.3 ارشاد فرمایا:روزانہ صُبْح جب سُورج طُلُوع ہوتا ہے تو اُس وَقْت’’دِن‘‘یہ اِعلان کرتا ہے:اگر آج کوئی اچّھا کام کرنا ہے تو کرلو،آج کے بعد میں کبھی پَلَٹ کر نہیں آؤں گا۔(شُعَبُ الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلۃ النصف من الشعبان، ۳ / ۳۸۶، حدیث:۳۸۴۰ ملخصاً)
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami