Share this link via
Personality Websites!
میں مُبْتَلا نہ ہو،سونے اورجَوَاہِرات سے زیادہ قیمتی لَمْحَات کی قَدْر کرے،تَقْویٰ و پرہیز گاری اپنائے،اپنی زندگی کو فُضُولِیات اور دُنْیَوِی عَیْش و عشرت میں نہ گَنْوائے،جن کاموں کے کرنے کا شریعت نے حُکْم فرمایا ہے،اُنہیں بجالانے میں ہرگز ہرگز سُستی کا مُظَاہَرَہ نہ کرے، بِالفَرْض نَفْس سُستی دِلائے تو نَفْس کو خُوب خُوب ڈانٹنے کی عادت بنائے اور جن کاموں سے رُکنے کا شریعت نےحُکْم فرمایا ہے اُن سے رُکنے میں”اَگر مَگر“”چُونکہ چُنانچِہ“سے کام لینے کے بجائے ایک لمحے کی بھی دیر نہ کرے، کیونکہ اگر ہم ایک دن ختم ہوجانے والی دُنیا کی رَنگینیوں میں ہی کھو ئی رہیں،صرف اور صرف دُنْیَوِی مُسْتَقْبِل کو سَنْوَارنے میں ہی ہمارے قیمتی لمحات غفلت کی نَذر ہو گئے اورمَوت کا فِرِشْتہ آپہنچا تواللہ پاک کی قَسم!ایک بارسُبْحٰنَ اللہ کہنے کی بھی مُہْلَت نہیں دی جائے گی۔آئیے!اِس ضِمن میں ایک عِبرت آموز حِکایَت سنتی ہیں،چنانچہ
مال تقسیم کرنے کی بھی مہلت نہ ملی
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی کتاب”لُبَابُ الاِحْیَاء ترجمہ بنام اِحْیَاءُ الْعُلُوْم کا خُلاصَہ“صَفْحَہ نمبر389 پر لکھا ہے:حضرت سَیِّدُنا ابُو بَکْر بن عَبْدُاللہ مُزْنِی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:بَنِی اِسْرَائِیْل میں سے ایک شخص نے مال جَمع کیا ۔جب اُس کی مَوت کا وَقْت قریب آیا توبیٹوں سے کہنے لگا: مجھے میرے مُخْتَلِف اَموال دِکھاؤ،اُس کے پاس بہت سے گھوڑے،اُونٹ اور غُلام لائے گئے ۔جب اُس نے اُن کی طرف دیکھا توافسوس کرتے ہوئے رونے لگا۔مَلَکُ الْمَوْت(حضرت سَیِّدُناعزرائیل)عَلَیْہِ السَّلَام نے اُسے روتے ہوئے دیکھا تو کہا: کیوں رورہے ہو؟اُس ذات کی قسم! جس نے تجھے یہ سب کچھ دیا ہے !جب تک میں تیری رُوْح اوربَدَن کوایک دوسرے سے جُدا نہ کردُوں،یہاں سے نہیں جاؤں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami