Share this link via
Personality Websites!
ترجمۂکنزُالعِرفان:زمانے کی قسم۔بیشک آدمی ضرور خسارے میں ہے۔مگر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیّت کی۔
حکیم الاُمَّت حضرت مفتی اَحمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:(اِنسان)اپنی اَصْل پُونْجِی (یعنی)عُمْر کو،کفر،گناہ،غفلت،دُنیا طَلَبی،کھیل کُود میں بَربَاد کررہا ہے،اِسے آخِرت(کو بہتر)بنانے کا ذَرِیْعَہ نہیں بناتا،اِنسان تاجِر ہے،زِنْدَگی اُس کی دُکان اوراَعْمَال دُکان کے سودے ہیں،اگر (اَعمال) اچّھے ہیں تو اُن کا خریدار خُدا پاک ہے اور جنّت اُن کی قیمت،اگر بُرے ہیں تو شَیْطان خریدارہےاوردوزَخ اُن کی قیمت،جیساسودا ویسےخریدار۔(تفسیرنورالعرفان،پ۳۰،العصر،تحت الآیۃ:۲، ص۹۹۴)
عُمْر اور بَرْف میں مُشَابَہَت
اِمام فَخْرُ الدِّین رَازِی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہایک بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کا یہ قَوْل نَقْل فرماتے ہیں کہ میں نے سُورۂ عَصْر کا مَفہوم ایک بَرف بیچنے والے سے سمجھا جو بازار میں یہ آوازیں لگارہا تھا:اُس شخص پر رَحْم کرو جس کا سَرمایہ گُھلتا جا رہا ہے۔اُس شخص پر رَحم کرو جس کا سَرمایہ گُھلتا جا رہا ہے۔اُس کی یہ بات سُن کر میں نے کہا:یہ ہے”m"GµSÍ!"s2“(ترجمۂکنزُالعِرفان:بیشک آدمی ضرور خسارے میں ہے۔) کا مطلب ۔(مزید فرماتے ہیں:)لہٰذا جس کی عُمْر بے کارگزر رہی ہے تو ایسا شخص نُقصان اُٹھانے والوں میں سے ہوگا۔(تفسیر کبیر، پ۳۰، العصر، تحت الآیۃ۱،الجزء الثانی والثلا ثون، ۱۱ / ۲۷۸)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری ا سلامی بہنو! آپ نے سُنا کہ ہماری زِنْدَگی بلکہ زِنْدَگی کا ہر ہر لَمْحَہ کتنا قیمتی ہے اور زِنْدَگی کا یہ مُخْتَصَر سَفَر کس تیزی کے ساتھ کَٹ رہا ہے، لہٰذا عقلمند وہی ہے کہ جو اِس فانی دنیا کے دھوکے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami