Share this link via
Personality Websites!
نُقصان اُٹھاتا ہے۔(جنّتی زیور،ص۱۲۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری ا سلامی بہنو!وَقْتاللہ پاک کی ایک ایسی نعمت ہے جو ہر اِنسان کو برابر ملتی ہے۔ایسانہیں کہ غریب کے لئے دن رات میں چوبیس(24) گھنٹے ہیں تو اَمیر کے لیے ستائیس(27) بلکہ اللہ پاک نے ہر ایک کو دن رات کی صورت میں چوبیس (24) گھنٹے ہی عطا فرمائے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کون اِن اَوْقَات کی قَدْر کرتی ہے اور کون بَرباد كر تی ہے ؟کیونکہ عنقریب اِس فانی زِنْدَگی کے سَفَر کا اِخْتِتَام ہونے ہی والا ہے، جیساکہ
حضرت سیِّدُنا امام حَسَن بَصری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے:اے اِبنِ آدَم!تُو مختلف مَرْحَلوں کا مَجْمُوعہ ہے، جب بھی تیرے پاس سے دن یا رات گزرتے ہیں تو تیرا ایک مَرْحَلہ خَتْم ہو جاتا ہے اور جب تیرے تمام مَرَاحِل خَتْم ہو جائیں گے تو تُو اپنی مَنْزِل یعنی جَنَّت یا جَہَنَّم تک پہنچ جائے گا۔
(قوت القلوب ،الفصل الثامن ولعشرون،ج۱،ص۱۸۷)
پیاری پیاری ا سلامی بہنو!وَقْت کی قَدْرسےکیا مُرادہے؟وَقْت کی قَدْرکیسے کی جائے ؟ آئیے! اِس کوقُرآنِ کریم کی اس آیتِ مبارکہ سے سمجھنے کی کوشش کر تی ہیں،چنانچہ
پارہ 30 سُوْرَۃ العَصْر کی آیت نمبر 1تا 3 میںاللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ﳔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳) ( پ۳۰، العصر:۱تا ۳)
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami