Share this link via
Personality Websites!
چوتھائی(4/1)حِصّے کی زندگی؟تو اُس بندے نے پوچھا:وہ کیسے؟اُس حکیم نے بتایا:مثلاً تیری عُمْر 40 سال ہو تو آدھی عُمْر20 سال ہو گی اور تُو اِسے بھی مزید 10سال بنانا چاہتا ہے(یعنی جب دن کو بھی مزید سویا رہے گا تو مزید 10 سال کم ہو جائیں گےاور تیرے پاس آخِرت میں کام آنے والے اعمال جمع کرنے کے لیے صِرْف 10 سال ہی باقی بچیں گے،لہٰذا زیادہ سونے کی خواہش کو دل سے نکال دے۔)( قُوْتُ القلوب، فصل ۲۷، ۱/۴۷۴ملخصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری ا سلامی بہنو! آپ نے سنا کہ اس عقلمند شخص نےزیادہ سونے کی آرزو رکھنے والے شخص کی کیسے اچّھے اَنداز میں اِصلاح فرمائی اور اُسے فِکْرِ آخِرت کا کیسا مَدَنی ذِہْن دینے کی کوشش کی،بَیان کردہ واقعے میں بالخُصُوص اُن اسلامی بہنو کے لئے عِبرت کا سامان مَوْجُود ہے جن کا اکثر وَقْت صرف سونے میں یا بیماروں کی طرح بستر پر پڑے رہنے میں ہی گزر جاتا ہے،ایسی اسلامی بہنوں کو نہ تونمَازوں کا ہوش ہوتاہے اورنہ ہی دیگر حُقوق کی پروا۔یاد رکھئے!بِلا وجہ زیادہ سونا ایک ایسی بُری عادت ہے جو وَقْت کی شدید بَربادی کے ساتھ ساتھ دنیا و آخِرت میں ذِلّت و رُسوائی کا باعِث ہے ،چنانچہ
ہماری شفاعت فرمانے والے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنےاِرْشاد فرمایا:حضرت سَیِّدُنا سُلَیْمان بن داؤد عَلَیْہِ السَّلام سے اُن کی والِدۂ ماجِدہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے فرمایا:اے میرے بیٹے!رات کو زیادہ دیر نہ سونا کیونکہ رات کو زیادہ سونا انسان کو قِیامت کے دن فقیر بنا د ے گا۔( ابن ماجہ،کتاب اقامۃ الصلوات، باب ماجاء فی قیام الیل،۲/۱۲۵،حدیث، ۱۳۳۲)
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی کتاب”جَنَّتی زیور“کے صفحہ نمبر125پر لکھا ہے:تمام بُزرگوں نے یہ فرمایا ہے:تین(3) عادتوں کو لازم پکڑو۔کم بولنا،کم سونا،کم کھانا کیونکہ زیادہ بولنا،زیادہ سونا،زیادہ کھانا،یہ عادَتیں بہت ہی خَراب ہیں اور اِن عادَتوں کی وجہ سے انسان دِیْن و دُنیا میں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami