Share this link via
Personality Websites!
سُنّتیں اور آداب بَیان کرنے کی سَعادَت حاصِل کر تی ہوں ۔ شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مُصْطَفٰے جانِ رحمت، صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنّت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔([1])
پیاری پیاری ا سلامی بہنو! آئیے! شیخ طریقت،امیرِ اَہلسُنّت،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مَوْلانا ابُو بلال محّمد الیاس عطّار قادِرِی رَضَوِی ضِیائی کے رسالے”101مَدَنی پھول“سے سُرمہ لگانے کی سنتیں اور آداب سنتی ہیں:فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے: تمام سُرموں میں بہتر سرمہ”اِثْمِد“(اِث۔مِد) ہے،یہ نگاہ کو روشن کرتا اور پلکیں اُگا تا ہے ۔( ابن ماجہ،۴/ ۱۱۵ ،حدیث :۳۴۹۷ )٭ پتھّر کا سُرمہ استعمال کرنے میں حَرَج نہیں اور سیاہ(کالا)سُرمہ یا کاجل زینت کی نیّت سےمرد کو لگانا مکروہ ہے اور زینت مقصود نہ ہو تو کراہت نہیں۔( فتاویٰ ہندیہ،۵ /۳۵۹)٭سُرمہ سوتے وقت استِعمال کرنا سنت ہے۔(مرآۃالمناجیح ،۶/۱۸۰)٭سرمہ استعمال کرنے کے تین منقول طریقوں کاخلاصہ پیش خدمت ہے:(1)کبھی دونوں آنکھوں میں تین(3)تین (3)سَلائیاں،(2)کبھی دائیں(سیدھی)آنکھ میں تین(3) اور بائیں(اُلٹی) میں دو،(3)تو کبھی دونوں آنکھوں میں دو دو اور پھر آخِر میں ایک سَلائی کو سُرمے والی کرکے اُسی کو باری باری دونوں آنکھوں میں لگایئے۔(شعب الایمان،۵ /۲۱۸ - ۲۱۹)٭اس طرح کر نے سے اِنْ شَآءَ اللہ تینوں پر عمل ہوتا رہے گا۔٭ تکریم(عزت و احترام)کے جتنے بھی کام ہوتے سب ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سیدھی جانب سے شرو ع کیا کرتے،لہٰذا پہلے سیدھی آنکھ میں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami