Share this link via
Personality Websites!
موقع کی مناسبت اور نوعیت کے اعتبار سے نیتوں میں کمی ،بیشی وتبدیلی کی جاسکتی ہے۔
نگاہیں نیچی کئے خُوب کان لگا کر بَیان سُنُوںگی۔ ٹیک لگا کر بیٹھنے کے بجائے عِلْمِ دِیْن کی تَعْظِیم کی خاطِر جہاں تک ہو سکا دو زانو بیٹھوں گی۔ضَرورَتاً سِمَٹ سَرَک کر دوسری اسلامی بہنوں کے لئے جگہ کُشادہ کروں گی۔دھکّا وغیرہ لگا تو صبر کروں گی، گُھورنے،جِھڑکنےاوراُلجھنے سے بچوں گی۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ، اُذْکُرُوااللّٰـہَ، تُوبُوْا اِلَی اللّٰـہِ وغیرہ سُن کر ثواب کمانے اور صدا لگانے والی کی دل جُوئی کے لئےپست آواز سے جواب دوں گی۔اجتماع کے بعد خُود آگے بڑھ کر سَلَام و مُصَافَحَہ اور اِنْفِرادی کوشش کروں گی۔ دورانِ بیان موبائل کے غیر ضروری استعمال سے بچوں گی، نہ بیان ریکارڈ کروں گی نہ ہی اور کسی قسم کی آواز کہ اِس کی اجازت نہیں ،جو کچھ سنوں گی، اسے سن اور سمجھ کر اس پہ عمل کرنے اور اسے بعد میں دوسروں تک پہنچا کر نیکی کی دعوت عام کرنے کی سعادت حاصل کروں گی۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
دعوتِ اِسلامی کے اِشاعتی اِدارےمکتبۃُ المدینہ کی826صفْحات پر مُشْتَمِلکتاب”قُوتُ الْقُلُوْب “کے صفحہ نمبر474سے ایک سبق آموز حکایت سنئےاوراس سے حاصل ہونے والے مدنی پھولوں کی مہکتی خوشبو سےاپنے دل کے مدنی گلدستے کوبھی سجانے کی کوشش کیجئے۔چنانچہ
غفلت کی نیند اور زندگی کی بربادی
کسی(نادان شخص)نے ایک حکیم سے کہا:میرے سامنے کسی ایسی چیز کی خوبیاں بیان کیجئے جس کے اِسْتِعمال سے میں دن کے وَقْت بھی سوتارہوں۔حکیم نے کہا:اے فُلاں! تُو کتنا کَم عَقل ہے!تیری عُمْر کا آدھاحِصَّہ تو پہلے ہی(رات کو غفلت میں)سوتے ہوئے گزر رہا ہے،حالانکہ نیند مَوْت کا دوسرا نام ہے،اب تُو اپنی عُمْر کے(4 حصوں میں سے)تین چوتھائی(4/3) حِصّے کو مزید نیند کی نَذر کرنا چاہتا ہے اور صرف ایک
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami