Share this link via
Personality Websites!
اِصلاح کر نا اورفُضُول بات نکل جانے کی صورت میں فکرِ مدینہ کرتے ہوئے اپنا اِحْتِسَاب کرنے کا ذہن ہونا چاہئے ۔ہمارے بُزُرگانِ دِین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا اس بارے میں زبردست مَدَنی ذہن بنا ہوا تھا۔ آئیے! ترغیب کے لئے2اِیمان اَفْروز واقِعات سنتی ہیں اورنصیحت کے مَدَنی پُھول چنتی ہیں، چنانچہ
(1)ٹائم پاس کرنے والے کی اِصلاح
دعوتِ اِسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی کتاب ”اِحیاءُ الْعُلُوم“جِلد2صَفْحہ نمبر829پر لکھاہے:حضرت سَیِّدُنا ابُوعلیفُضَیل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ مسجِدِ حَرام میں اکیلے تشریف فرما تھے، ایک دوست آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے پاس آیا ،آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے اُن سے آنے کا سبب دَرْیَافْت کیا، اُنہوں نے کہا:اے ابُو علی!میں آپ کے پاس دل بہلانے کے لئےآیا ہوں۔آپ نے فرمایا:اللہ پاک کی قسم!یہ تو گھبراہٹ دلانے والا کام ہے!تم یہی چاہتے ہو کہ تم میرے لئے اپنا کلام خُوبصورت کرو،میں تمہارے لئے اپنا کلام آراستہ کروں،تم میرے لئے جھوٹ بولو اور میں تمہارے لئے جُھوٹ بولوں؟(لہٰذا بہتری اِسی میں ہے کہ)یا تو تم میرے پاس سے چلے جاؤ یا میں تمہارے پاس سے چلا جاتا ہوں۔(اِحیاءُ الْعُلوم،۲ /۲۸۷ملخصاً )
(2)فُضُول سُوال کےکَفَّارے میں ایک سال کے روزے رکھے
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی کتاب”مِنْہاجُ العابِدین“صَفْحہ نمبر173 پر لکھاہے:حضرت سَیِّدُنا حَسّان بن سِنَان تابِعِی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ ایک بُلند و بالا مکان کے پاس سے گُزرے تو اُس کے مالک سے پوچھا:یہ بالا خانے بنائے تمہیں کتنا عَرْصَہ گزرا ہے؟یہ سُوال کرنے کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ دل میں سخت شرمندہ ہوئے اور اپنے نَفْس سے مُخاطِب ہو کر یُوں فرمایا:اے اِترانے والے نَفْس ! تُو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami